امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن، ایران پر ممکنہ نئے حملوں کا جائزہ لے رہا ہے ۔ہمارا ملک، ایران پر ’’کل‘‘ بھی حملہ کر سکتا ہے یا پھر تہران حکومت کے ساتھ ’’ایک بڑا اور شاندار‘‘ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
صحافیوں کےاس سوال کے جواب میں کہ وہ ممکنہ حملے کا فیصلہ کرنے کے کتنے قریب ہیں ؟ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم کل ہی حملہ کر دیں۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ اگر میں ایسا کرنے والا ہوں تو میں آپ کو بتاؤں گا؟‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرکے نئے فوجی حملوں سے بچ سکتا ہے۔ ہم، معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ معاہدے کی پاسداری کریں گے؟‘‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا مقصد ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔ قبل ازیں بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے کیا گیا امریکی فوجی آپریشن دیرپا نتائج حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہوگا۔مجھے اسے مستقل بنانا ہوگا۔ میرےحملہ کرنے کی واحد وجہ یہی ہے۔‘‘
انتخابات کے بعد حملوں کے منصوبے
ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہےکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے براستہ آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے آئندہ اقدامات کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا تاہم اتنا ضرور کہا ہے کہ فوجی مداخلت اور مذاکرات، دونوں ممکنہ راستے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’شاید مجھے یہ معاملہ مکمل طور پر ختم کرنا پڑے، یا شاید وہ کوئی معاہدہ کر لیں۔ لیکن مجھے یقین نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں جیت ہماری ہی ہوگی۔‘‘
خصوصاً امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی تازہ خبروں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے لیے فوجی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ دونوں ممالک ایک مختصر لیکن شدید فوجی کارروائی کے تفصیلی منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔
اخبار نے امریکی حکام اور اعلیٰ سطحی مذاکرات سے واقف افراد کے حوالے سے بتایا ہےکہ دونوں ممالک کی افواج نے اپنی فوجی مشقوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان مشقوں میں عراق کی فضائی حدود میں کی جانے والی پروازیں بھی شامل ہیں، جن کا مقصد حملوں کی حکمت عملی کی مشق کرنا ہے۔
خبر کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات، میزائلوں کے ذخائر اور ڈرونوں کے ذخائر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ فروری میں شروع ہونے والی امریکہ۔ اسرائیل۔ ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر تنازعے کا سبب بنی۔ جنگ بندی اور امن معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کے باوجود یہ تنازعہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا ہے۔

















