سیاست
2 منٹ پڑھنے
روس نے یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کے طور پر غیر ملکی فوجیوں کو مسترد کر دیا
ماسکو 2022 کے استنبول فریم ورک کو امن مذاکرات کا بنیادی نقطہ بنانے پر زور دے رہا ہے، تو کیف کے ساتھ اعلی سطحی اجلاس کے امکانات کے معدوم ہونے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
روس نے یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کے طور پر غیر ملکی فوجیوں کو مسترد کر دیا
پیسکوو کا کہنا ہے کہ یوکرین کے لیے تمام سلامتی کے یقین دہانیاں 2022ء میں استنبول میں منعقدہ امن مذاکرات کے فریم ورک میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ (تصویر: رائٹرز) / Reuters

کریملن  کا کہنا ہے  کہ غیر ملکی فوجی دستے یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے، اور اس بات پر زور دیا کہ ماسکو اور کیف کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی اعلیٰ سطحی مذاکرات سے قبل  کافی تیاری کی ضرورت ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب 26 ممالک نے یوکرین کو جنگ کے بعد سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرنے کا عہد کیا، جس میں خشکی، سمندر اور فضا میں بین الاقوامی افواج کے کنٹرول کا امکان شامل ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ولادیووستوک میں مشرقی اقتصادی فورم کے دوران ریاستی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے  کے سوال  کہ   "کیا یوکرین کی سلامتی کی ضمانتیں غیر ملکی، خاص طور پر یورپی اور امریکی فوجی دستوں کے ذریعے فراہم کی جا سکتی ہیں؟ کے جواب میں کہا   بالکل نہیں۔"

انہوں نے کہا، " یوکرین کے لیے   ایسی سلامتی کی ضمانت نہیں ہو سکتی جو ہمارے ملک کے لیے ناقابل قبول ہو۔"

جنگ کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی اقدامات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی  ثالثی کی کوششوں کے باوجود، تیسرے سال میں داخل ہونے والی  روس ، یوکرین جنگ  کے عنقریب  ختم ہونے  کا امکان کافی معدوم  ہے۔

پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کے لیے تمام ضروری سلامتی کی ضمانتیں پہلے ہی 2022 میں استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات کے فریم ورک میں شامل ہیں۔ اس تجویز میں یوکرین کی نیٹو رکنیت کی خواہش کو ترک کرنا اور غیر جانبدار، غیر جوہری حیثیت اپنانا شامل تھا، جس کے جواب  میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس  نے  سلامتی کی ضمانتیں دینی  تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو کیف کے ساتھ مذاکرات میں موجودہ سطح کی نمائندگی سے مطمئن ہے۔

پیسکوف نے کہا، " اعلیٰ سطحی بات چیت سے قبل، معمولی مسائل، چھوٹے تکنیکی معاملات کو حل کرنے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے، جو مل کر جنگ بندی کے  عمل کو تشکیل دیتے ہیں۔"

شمالی کوریائی جنگجو

پیسکوف نے شمالی کوریا  کے فوجیوں کے حوالے سے  قیاس آرائیوں  پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  شمالی کوریائی فوجی یوکرینی سر زمین پر  نہیں   صرف روسی علاقے میں  موجود ہیں۔

دریافت کیجیے
اقوام متحدہ کے آئینی اصولوں پر 'براہ راست حملہ' کیا جا رہا ہے، یورپی یونین کی تنبیہ
برطانیہ اور فرانس خلیج فارس کے راستے کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کریں گے
نائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ایرانی اسپیکر: امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران 'ضروری اقدامات' کے لیے تیار ہے
وزیر خارجہ حاقان فیدان کی مشرق وسطی میں بھڑکنےو الی آگ کو بجھانے اور پائیدار امن کی اپیل
امریکی اور کیوبائی حکام کی نئی سفارتی کوششوں کے دائرہ کار میں  ہوانا میں ملاقات
ٹرمپ: ایران معاہدہ 'بہت قریب' ہے، دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ کر سکتا ہوں
ٹرمپ: میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ایران کے ساتھ فائر بندی معاہدے میں توسیع کی ضرورت ہو گی
فرانس اور برطانیہ کی جانب سے 'دفاعی'  مقصد کے لیے آبنائے ہرمز پر مذاکرات کا اہتمام
جنوبی کوریا، پولینڈ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دے رہا ہے
ہسپانوی وزیر اعظم سانچیز: چین-یورپی یونین تجارتی خلا 'نا قابل قبول' ہے
مغربی اور ایشیائی رہنماؤں کا اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے قبل مذاکراتی طویل المدتی حل پر زور
امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں اختلاف کے باعث کچھ نیٹو ممالک سے  فوجیں ہٹا رہا ہے: رپورٹ
امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل-لبنان مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے
امریکہ اور ایران 45 روزہ فائر بند پر غور کر رہے ہیں
ٹرمپ: امریکی طیارے کو گرائے جانے سے ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے
ٹرمپ: ہم ایران کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے، ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے کا کہہ رہے ہیں
ٹرمپ: امریکہ 2-3 ہفتوں میں ایران کو ترک کر دے گا
ٹرمپ کا کیوبا کو اپنا اگلا ہدف بنانے کا اشارہ
نتن یاہو کو کسی بھی میدان میں جیتنے کا فن نہیں آتا: سابق اسرائیلی وزیر اعظم بینیٹ