پاکستان
3 منٹ پڑھنے
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
کوہاٹ میں پولیس کمپلیکس پر دھماکے اور فائرنگ کے ساتھ کل حملہ کیا گیا تھا، اموات کے ساتھ ساتھ ایک 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
18 ستمبر 2026 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس ہیڈ کوارٹرز کے اندر ہونے والے دھماکے کے مقام پر لوگ جمع ہیں۔ / AFP

ایک سینئر پولیس اہلکار نے ہفتہ کو اے ایف پی کو بتایا کہ شمالی پاکستان میں ایک پولیس ہیڈکوارٹر پر ہونے والی دھماکہ اور فائرنگ کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 31 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 16 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ دوسری جانب جھڑپیں جاری ہیں۔

باور رہے کل دہشت گردوں نے کوہاٹ کے 'اولڈ پولیس لائنز' کمپلیکس پر دھاوا بول کر پولیس کمپاؤنڈ کے اندر موجود مسجد کے نزدیک جمعہ کی نماز کے اجتماع کو نشانہ بنایا؛ دھماکے نے مسجد کے باہر ایک گہرا گڑھا بنا دیا تھا۔

یہ پولیس کمپاؤنڈ ضلعی سطح کا پولیس ہیڈکوارٹر ہے، جس میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD)، اسپیشل برانچ اور کئی دیگر پولیس یونٹس کے اہم دفاتر واقع ہیں۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ  اس دہشت گردانہ اور خود کش  حملے  میں کم از کم 31 افراد، جن میں 16 پولیس اہلکار شامل ہیں، ہلاک ہوگئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ۔

پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ'چند دہشت گرد  تا حال  کوہاٹ پولیس  لائنز کی خصوصی  برانچ  کے حصے میں محصور ہیں۔'

'ان کے ساتھ  رات  گئے  تک  فائرنگ کا تبادلہ جاری رہاہے۔ ان کی درست تعداد واضح نہیں ہے'، اہلکار نے مزید کہا۔

کوہاٹ ضلعی ہیلتھ آفس کے جمعہ کی شب  بیان میں بتایا گیا کہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے اور چند افراد کی طبی حالت تشویشناک ہے۔

مقامی دہشت گرد گروہ IMP، جو کالعدم  تحریکِ طالبان پاکستان سے منسلک ایک شاخ ہے، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اے ایف پی کی تصویروں میں حملے کے بعد اینٹوں کے ڈھیر، منہدم دیواریں اور ملبہ دکھائی دے رہے ہیں؛ فوجی  کمپلیکس کی حفاظت  کے لیے رائفلوں کے ساتھ  ملبے کے پاس کھڑے ہیں ۔

کئی ایمبولینسیں پولیس کمپاؤنڈ کے قریب سڑک پر  کھڑی دیکھی  گئیں۔

پاکستان نے کے پی کے  اور جنوبی سرحدی صوبہ بلوچستان میں حملوں میں اضافے کا الزام افغانستان سے تعلق رکھنے والی  دہشت گردی پر عائد کیا ہے، جبکہ طالبان حکومت افغانستان کے ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے۔

ان الزامات نے پڑوسی ممالک کے درمیان تلخ اختلاف اور مسلح تصادم کو جنم دیا ہے، اور پاکستان نے افغان سرزمین استعمال کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مہلک فضائی حملے کیے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعہ کی شام اس حملے کی مذمت کی اور 'دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرا دکھ اور افسوس' کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ 'زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے' اور حملے کی رپورٹ طلب کی۔

صدر آصف علی زرداری نے ہلاکتوں پر 'افسوس' کا اظہار کیا اور دھماکے میں زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لیے 'نیک تمناؤں' کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ  'فِتنہ الخوارج اور بیرونی سرپرستی کے ساتھ کام کرنے والے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیےلازمی  ہے۔

 

دریافت کیجیے
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع
ترکیہ کی حوثیوں کی مکہ مکرمہ کے اطراف میں روکے گئے ڈراون حملے کی مذمت
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
ترکیہ اور آذربائیجان علاقے میں 'استحکام کے دو جزائر' کی حیثیت کے مالک ہیں، ترک وزیر خارجہ فیدان
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
ایران: ہم نے جزیرہ قشم  کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرا دیا ہے
"دینے کےلیے کچھ نہیں بچا"میں فٹ بال چھوڑ رہا ہوں:میسی
لاس اینجلس میں ہیلی کاپٹر حادثے میں تین افراد ہلاک
حماس کی رفح بریگیڈ کا کمانڈر مارا گیا ہے:اسرائیل
امریکہ اور شام کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر مذاکرات
مکہ پر حملے کی کوشش،او آئی سی کی مذمت
ایردوان: "ہم نے اپنی قوم کو خطرات سے دور رکھا ہے"
ایرانی مسلح افواج کا جنگ، فائر بندی اور جنگ کے بعد کے سناریوز کے لیے قومی دفاعی تیاریوں کا حکم