لبنانی حکام نے، ملک کے جنوبی حصے میں یونیسکو کی طرف سے تحفظ میں لئے گئے تاریخی مقامات اور یادگاروں کے قریب، اسرائیلی حملوں کی مّذمت کی ہے۔
یہ حملے تل ابیب کی طرف سے، امریکہ کے زیرِ ثالثی ہونے والی، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں میں ایک نیا اضافہ ہیں۔ تازہ بمباری میں کم از کم 28 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق، وزیرِ ثقافت غسان سلام نے، جنوبی لبنان کے آثارِ قدیمہ اور تاریخی مقامات کو پہنچنے والے شدید نقصان کی جانب توجہ دِلانے کے لئے، دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے ہم منصبوں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے متعدد رابطے کئے ہیں۔
سلامے نے قدیم شہر صور اور نبطیہ کے علاقے میں واقع قلعہ شاکف کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مقامات کے بڑے حصے کو یونیسکو نے حفاظت میں لے رکھا ہے، لہٰذا انہیں اسرائیلی فضائی یا توپ خانے کے حملوں سے محفوظ رہنا چاہیے۔
لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"صور اور نبطیہ کے علاقوں پر جاری حملوں اور وہاں موجود تاریخی آثار کی تباہی کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔"
اسرائیل، حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان کے ساحلی شہر صور کے رہائشیوں کو باربار الٹی میٹم جاری کر رہا اور علاقے پر شدید حملے کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جمعرات کی صبح اعلان کیا تھا کہ وہ صور میں ایک عمارت کو نشانہ بنائے گی۔ جاری کردہ نقشے میں دکھایا گیا ہےکہ یہ عمارت شہر کے آثارِ قدیمہ کے مقام کے انتہائی قریب واقع تھی۔
وارننگ سےتقریباً دو گھنٹے بعد اے ایف پی کی تصاویر میں حملے کے بعد علاقے سے آگ اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیئے۔











