سیاست
2 منٹ پڑھنے
برطانیہ: ہم، ایران پر اسرائیلی حملوں میں شامل نہیں ہیں
برطانیہ، ایران پر اسرائیلی حملوں میں شامل نہیں ہے اور اگر اس تنازعے میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے سنگین علاقائی اور معاشی نتائج نکلیں گے: ڈیوڈ لیمی
برطانیہ: ہم، ایران پر اسرائیلی حملوں میں شامل نہیں ہیں
UK warns military strikes cannot stop Iran’s capabilities amid widening conflict / AFP

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کو  مشرق وسطیٰ کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیااور خبردار کیا ہے کہ محض  فوجی کارروائی ایران کی جوہری یا عسکری ترقی کے سامنے بند نہیں باندھ سکے گی۔

ہاؤس آف کامنز میں اسمبلی ممبران سے خطاب میں ڈیوڈ لیمی نے کہا ہےکہ اسرائیل نے ایرانی مقامات پر "وسیع  پیمانے کے حملے" کیے ہیں، جن میں فوجی اور جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ شخصیات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران نے بیلسٹک میزائل فائر کے ساتھ جوابی کاروائی کی ہےجس سے خطے میں وسیع جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ اسرائیلی فوجی حملے میں شامل نہیں تھا لیکن ہم، اسرائیلی سلامتی کی حمایت کرتے ہیں۔ سفارت کاری کے دوبارہ آغاز کی ضرورت  ہے کیونکہ کوئی بھی فوجی کارروائی ایران کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکتی"۔

انہوں نے کہا  ہےکہ برطانیہ کی فوری توجہ اپنے شہریوں کی حفاظت پر مرکوز ہے۔ برطانوی شہریوں کو خطے سے نکالنے کے لئے مصر اور اردن میں بحرانی ٹیمیں متعین کر دی گئی ہیں ۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں موجود برطانوی شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ دفتر خارجہ میں اندراج کروائیں  مدد طلب کریں۔

لیمی نے غزہ میں جاری تشدد، لبنان، شام اور عراق میں کشیدگی، اور بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا حوالہ دیا  اور بڑے پیمانے پر  عدم استحکام کے خطرے کو اجاگر کیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے تنگ راستے کی اسٹریٹجک اہمیت اور تیل کی عالمی رسد  میں ایران کے کردار کے حوالے سے انہوں نے کسی بھی کشیدگی کے اقتصادی اثرات سے خبردار کیا ہے۔

وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے احتیاط کی اپیل کی، دونوں فریقوں کے پیچھے ہٹنے پر زور دیا اور کہا  ہےکہ جنگ کی شدت "سنگین اور غیر متوقع نتائج" پیدا کر سکتی ہے ۔ انہوں نے مزید  کہا ہے کہ "یہ اسرائیل کی طرف سے کی گئی فوجی کارروائی ہے۔اور برطانیہ اس میں شامل نہیں ہے"۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی
یوکرین سے ایران تک: نیٹو انقرہ سمٹ میں زیر غور آنے والے ممکنہ موضوعات کا جائزہ
نیٹو سیکریٹری جنرل: "ترکیہ میثاق کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک ہے"
امریکہ نے اسرائیل اور لبنان امن  معاہدے کے فریم کی تفصیلات جاری کر دیں
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ممکن ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کے ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دے: امریکی انٹیلی جنس
امریکہ اور ایران کے درمیان مقرر کردہ مذاکرات میں تاخیر
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
2022 کا استنبول یوکرین معاہدہ مغربی مداخلت کی وجہ سے بگڑا، روس کا دعوٰی
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے 'لازمی شرط' ہے: وزیر خارجہ عراقچی