سیاست
3 منٹ پڑھنے
امریکا، روس اور چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام پر آمنے سامنے
واشنگٹن نے موسکو اور بیجنگ پر ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کی نگرانی میں ان کی مدد کرنے کا الزام لگایا ہے۔
امریکا، روس اور چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام پر آمنے سامنے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شدید تقسیم دیکھی گئی جب امریکہ، روس اور چین ایران پر پابندیوں کے معاملے پر آپس میں ٹکرا گئے۔ / Reuters
2 گھنٹے قبل

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی، اقوامِ متحدہ میں ایران کے جوہری ارادوں پر روس اور چین کے ساتھ مد مقابل آئے ہیں، کیونکہ واشنگٹن دو ہفتے قبل ایران کے خلاف جنگ  کے لیے  مزید جواز بنانا  چاہتا ہے۔

پندرہ رکنی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں، جس کی صدارت اس ماہ امریکہ نے کی، روس اور چین نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی اور نفاذ کے لیے قائم کمیٹی کے بارے میں بحث کو روکنے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام رہے۔

یہ کوشش 2 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے مسترد ہوئی جبکہ دو ارکان نے غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا۔

کونسل سے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے ماسکو اور بیجنگ پر الزام لگایا کہ وہ بظاہر 1737 کمیٹی کے کام میں رکاوٹ ڈال کر تہران کا تحفظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

والٹز نے کہا کہ " اقوامِ متحدہ کے تمام  رکن ممالک کو ایران کے خلاف اسلحہ پر پابندی نافذ کرنی چاہیے، میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارت پر پابندی لگانی چاہیے، اور متعلقہ مالی اثاثے منجمد کرنے چاہئیں۔"

"وہ اقوامِ متحدہ کی شقیں جو دوبارہ نافذ کی جائیں گی وہ من مانی  نہیں ہیں، بلکہ ایران کے جوہری، میزائلی اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرامز اور ایران کی دہشت گردی کی مسلسل حمایت سے پیدا ہونے والے خطرے کو ہدف بنا کر محدود دائرہ کار میں ہیں۔"

والٹز نے کہا کہ روس اور چین ایک فعال پابندی کمیٹی کی مخالفت کر رہے ہیں ،کیونکہ وہ اپنے شراکت دار، ایران، کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں، اور وہ حفاظتی تعاون برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جس کی اب ممانعت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوامِ متحدہ کی عالمی  ایٹمی توانائی ایجنسی نے حال ہی میں دہرایا ہے کہ ایران واحد ایسا ملک ہے جس نے جوہری ہتھیار نہ ہونے کے باوجود 60 فیصد تک افزودہ یورینیم پیدا اور جمع کیا ہے اور ایجنسی کو اس ذخیرے تک رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔

جوابی الزامات

روس کے اقوامِ متحدہ میں سفیر واسِلی نیبِنزیا نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے، جنہیں انہوں نے 'ہسٹیریا' کہا، ہوا دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ"یہ کام تہران کے خلاف ایک اور عسکری مہم چلانے اور مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے صورتحال میں شدید تصادم کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔"

چین کے اقوامِ متحدہ کے نمائندے فو کانگ نے بھی واشنگٹن پر تنقید کی اور امریکہ کو ایرانی جوہری بحران کا 'بھڑکانے والا' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے مذاکراتی عمل کے دوران ایران کے خلاف ' قوت کے استعمال' کا سہارا لیا، جس نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔

ایران کے اقوامِ متحدہ کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے بعد ازاں صحافیوں سے کہا کہ تہران کا جوہری پروگرام "ہمیشہ قطعی طور پر پُرامن" رہا ہے اور ایران پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی کسی بھی کارروائی کو  تسلیم نہیں کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا ایران کے جوہری پروگرام کا حوالہ دے کر جنگ کو جواز بنایا ہے۔

انہوں نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ اگر امریکہ نے جون میں تین اہم جوہری مقامات پر حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا، اگرچہ ذرائع نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ امریکی انٹیلی جنس جائزوں سے ہم آہنگ نہیں ۔

برطانیہ اور فرانس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ایران کے جوہری امور کے بارے میں بین الاقوامی خدشات کو حل نہ کرنے کے باعث ایران پر پابندیاں دوبارہ عائد کرنا جائز ہے۔