رائے
تجزیات
4 منٹ پڑھنے
ایران نے 300 ملین ڈالر کی امریکی میزائل دفاعی ریڈار کو اردون میں تباہ کر دیا ہے
بروبسٹ نے نشاندہی کی کہ 'امریکی فوج اور اس کے شراکت داروں کے پاس دیگر ریڈار ہیں جو فضائی اور میزائل دفاعی کوریج فراہم کرتے رہ سکتے ہیں، جس سے کسی ایک ریڈار کے نقصان کا ازالہ ممکن ہے۔
ایران نے 300 ملین ڈالر کی امریکی میزائل دفاعی ریڈار کو اردون میں تباہ کر دیا ہے
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، ایرانی حملے نے 300 ملین ڈالر مالیت کا تھاڈ ریڈار تباہ کر دیا۔ / AP

راڈار ایران

بلوم برگ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالہ سے رپورٹ کیا ایران نے جنگ کے آغاز کے دنوں میں ایک ریڈار سسٹم تباہ کر دیا جو خلیج میں امریکی میزائل دفاع کو ہدایت دینے کے لیے اہم تھا ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نقصان سے بلند ارتفاعی نگرانی کے احاطے میں ایک نمایاں خلاء پیدا ہو گیا ہے۔

رائن بروبسٹ، جو FD کے سینٹر آن ملٹری اینڈ پولیٹیکل پاور کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں، نے بلومبرگ کو بتایا کہ'اگر کامیاب ہوا، تو کسی THAAD ریڈار پر ایرانی حملہ اب تک ایران کے کامیاب حملوں میں سے ایک شمار ہوگا ۔

بروبسٹ نے نشاندہی کی کہ 'امریکی فوج اور اس کے شراکت داروں کے پاس دیگر ریڈار ہیں جو فضائی اور میزائل دفاعی کوریج فراہم کرتے رہ سکتے ہیں، جس سے کسی ایک ریڈار کے نقصان کا ازالہ ممکن ہے۔

سی این این نے  کمرشل سیٹلائٹ امیجری کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ RTX کارپوریشن کا AN/TPY-2 ریڈار اور معاون ساز و سامان — جو امریکی ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) سسٹمز کے ذریعے استعمال ہوتا ہے — جنگ کے ابتدائی دنوں میں اردن کے موفق سلتی ایئر بیس میں تباہ ہو گیا۔

اس سامان کے تباہ ہونے کی تصدیق بعد میں ایک امریکی اہلکار نے کی۔

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (FDD) کی جانب سے جمع کردہ ڈیٹا کے مطابق اردن میں دو مبینہ ایرانی حملے درج ہوئے: ایک 28 فروری اور ایک 3 مارچ کو۔

ابتدائی طور پر دونوں حملوں کے ناکارہ بنائے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ تاہم، ریڈار کے تصدیق شدہ نقصان نے ایک اہم حکمتِ عملی تبدیلی کی نمائندگی کی ہے۔

انضمامی دفاع پر اسٹریٹجک اثرات

امریکی THAAD یونٹس فضا کی حد پر بالِسٹک میزائلوں کو روکتے ہیں اور یہ پیٹریاٹ بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل خطرات سے نمٹنے کے قابل ہیں۔

جب AN/TPY-2 ریڈار آف لائن ہے، تو میزائل انٹرسیپشن پیٹریاٹ سسٹمز پر منحصر رہے گا، جہاں PAC-3 میزائل پہلے ہی کم دستیاب ہیں۔

امریکی-اسرائیل جنگ کے ابتدائی مراحل میں قطر میں ایک AN/FPS-132 ریڈار — جو موبائل THAAD سسٹم کے برعکس ایک مستقل تنصیب ہے ، کو ایک ایرانی حملے کے دوران نقصان پہنچا تھا۔

یہ 1.1 بلین ڈالر کا سسٹم طویل فاصلے کے خطرات کا جلد انتباہ دینے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن فائر کنٹرول کے لیے درکار درستگی  کی صلاحیت کا حامل نہیں۔

اردن میں TPY-2 کے تباہ ہونے، قطر میں نقصان اور بحرین میں SATCOM ٹرمینلز پر مبینہ ضربات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی کوششیں خلیج کے دفاعی نظام کو ختم کرنے کی طرف مرکوز ہیں۔

ذخائر اور پیداوار پر دباؤ

خلیجی فضائی دفاع کو ایرانی ڈراون اور میزائل جوابی کارروائیوں نے دبایا ہے اور بعض اوقات اسے عبور بھی کیا گیا ہے۔

اس سے ایران کے حریفوں میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ THAAD اور PAC-3 جیسے جدید انٹرسیپٹرز کے ذخائر جلد ہی انتہائی کم ہو سکتے ہیں۔

جب پینٹاگون ہتھیاروں کی پیداوار تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے توجمعے کو دفاعی ٹھیکیداروں بشمول لاک ہیڈ مارٹن اور RTX نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'سب سے بڑی امریکی دفاعی مینوفیکچرنگ کمپنیوں' نے ان ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا جنہیں انہوں نے 'Exquisite Class' قرار دیا۔

انہوں نے 'Exquisite Class' ہتھیاروں کی پیداوار کو چار گنا بڑھانے پر اتفاق کیا، انہوں نے کہا  کہ  ہم جتنا جلدی ممکن ہو سکے مقدار کی اعلیٰ ترین سطح  تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

ان اندازوں اور انادولو ایجنسی کے مرتب کردہ ڈیٹا کے مطابق، ہفتہ سے جاری امریکی کارروائیوں کے دوران امریکہ نے تقریباً 2 بلین ڈالر مالیت کا فوجی ساز و سامان  کا نقصان برداشت کیا ہے۔

جمعے کو، جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ چو ہُن نے کہا کہ سیول اور واشنگٹن اس بارے میں بات چیت کر رہے ہیں کہ جنوبی کوریا میں تعینات بعض امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظاموں کو ممکنہ طور پر دوبارہ تعینات کیا جائے۔

یہ سسٹمز بڑھتے ہوئے ایران کشیدگی کے  ماحول میں  مشرقِ وسطیٰ میں آپریشنز  میں تعاون کے لیے منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

دریافت کیجیے
آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کے بحران کے خطرات اور پیٹرول کے نرخ
شمالی کوریا کی امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں کے درمیان متعدد بیلسٹک میزائلوں کی آزمائش
امریکہ بین الاقوامی قواعد پر مبنی نظام کو چیلنج کر رہا ہے، یورپی یونین کونسل
امریکی میزائل کے ایرانی اسکول کے قریب گرنے کی فوٹیج سے مزید حقائق سامنے آ گئے
افغانستان اور پاکستان ان بحرانی حالات تک کیسے پہنچے؟
مارکو روبیو کا غزہ میں انتظامیہ کے قیام اور اس کے بعد بین الاقوامی فورس کی تعیناتی منصوبہ
حلال منڈیوں کے شعبے کی تجارتی سطح 7 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچی ہے: صدرِ ترکیہ
ترکیہ اگلے سال COP31 کی میزبانی کرتے ہوئے عالمی موسمیات کے موضوع پر اپنی پوزیشن مضبوط کرے گا
اسرائیل، امریکی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کے بل سے ریاستِ فلسطین کی حیثیت کو ہٹانے کے درپے
برطانیہ میں مساجد پر حملوں میں اضافہ مسلم نفرت میں تیزی آنے کا مظہر ہے، نگران ادارہ
غزہ کا پختہ ایمان: ایک ترک خاتون کے 24 سال
امریکہ نے نسل کشی سے متاثرہ غزہ میں امن فورس کے لیے ایک مسودہ قرار داد پیش کر دی
شاہ اردن: غزہ کی سلامتی افواج کا مینڈیٹ 'امن حفاظت' ہوگا، نہ کہ 'امن نافذ کرنے' کا
اقوام متحدہ کی اعلی عدالت کا فیصلہ: اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ فلسطینیوں تک انسانی امداد پہنچے
حماس نے غزہ میں امدادی سامان نہیں چرایا
اسرائیل نے مغربی کنارے کو ایک'بڑی جیل' بنا ڈالا
متعدد عالمی کمپنیاں غزہ میں 'نسل کشی' اور آبادی کی توسیع میں اسرائیل کی مدد کرتی ہیں: رپورٹ
پاکستان میں بار بار آنے والے سیلابوں کی وجوہات پر ایک تجزیہ
غزہ میں نظامِ آبپاشی کی تباہی کے باعث مصنوعی خشک سالی کا سامنا ہے، یونیسیف
کیا چین پاک-افغان تعلقات کے استحکام میں کردار ادا کر سکے گا؟