امریکہ نے ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک بیان میں کہا کہ "آج شام ساڑھے5 بجے، امریکی افواج نے کمانڈر ان چیف کی ہدایت پر ایران کے فوجی اہداف کے خلاف مزید حملے شروع کیے ہیں۔
سینٹ کام نے ایکس پر لکھا کہ یہ مشن علاقائی پانیوں سے گزرنے والے سویلین ملاحوں اور تجارتی بحری جہازوں کو دھمکانے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا جاری رکھے گا۔
اس دوران کویتی فوج کے مطابق، ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے کیے گئے ایک ڈرون حملے کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی کی ہے۔
فوجی بیان میں مزید کہا گیاکہ ہر ایک سے گزارش ہے کہ وہ مجاز حکام کی سیکیورٹی اور حفاظت سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملہ شروع کرنے کے بعد سے علاقائی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ ماہ امریکہ اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھےجس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا اور ایک مستقل امن معاہدے تک پہنچنا تھالیکن گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جوابی حملے شروع کر رکھے ہیں ۔
وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری سے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک کل 18 امریکی فوجی ہلاک اور 447 زخمی ہو چکے ہیں۔















