امریکہ نے ایران کو ’غیر قانونی حراست کی سرپرست ریاست‘ قرار دے دیا ہے، یہ نئی بلیک لسٹ کے تحت کیا گیا اس کا پہلا اقدام ہے جو بالآخر سفری پابندی کا موجب بن سکتا ہے۔
جمعہ کے فیصلے کے موقع پر امریکہ ایران کے قریب اپنی فوجی قوت بڑھا رہا ہے اور اس کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں تہران پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہاکہ"ایرانی انتظامیہ کو یرغمالی کارروائیاں بند کرنی چاہئیں اور ایران میں ناحق قید تمام امریکیوں کو رہا کرنا چاہیے، یہ وہ اقدامات ہیں جو اس تعیناتی اور اس سے منسلک کارروائیوں کو ختم کر سکتے ہیں۔"
اگر ایران پیش رفت نہیں کرتا تو روبیو نے کہا کہ امریکہ بالآخر یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ امریکی پاسپورٹس کو ایران کے لیے سفر کے لحاظ سے غیر معتبر قرار دیا جائے۔
امریکہ اپنے شہریوں کو صرف ایک ملک — شمالی کوریا — میں جانے سے منع کرتا ہے، اور بہت سے ایرانی نژاد امریکی معمول کے مطابق ایران کا سفر کرتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جنہوں نے غیر قانونی حراست کی سیاہ فہرست قائم کی، جو امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے عنوان پر کی جانے والی تعیناتیوں سے ملتی جلتی ہے۔
ایران اس بلیک لسٹ میں شامل ہونے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ تہران نے حالیہ برسوں میں متعدد امریکیوں کو حراست میں لیا ہے، عموماً وہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد ہوتے ہیں جنہیں حکومت ایرانی شہری سمجھتی ہے۔
روبیو نے کہا کہ،"کسی بھی امریکی کو کسی بھی وجہ سے ایران کا سفر نہیں کرنا چاہیے۔ ہم دوبارہ اُن امریکیوں سے اپیل کرتے ہیں جو اس وقت ایران میں موجود ہیں کہ فوراً وہاں سے نکل جائیں۔"










