ایک اقتصادی ادارے نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی یونین سے آنے والی کاروں اور ٹرکوں پر ٹیرف میں اضافے کے اعلان سے جرمنی کو پیداوار میں تقریباً 17.58 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یہ اندازہ کیل انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی معیشت (IfW) کا ہے اور ہفتے کو جاری کیا گیا، جو یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت کی امریکی درآمدی محصولات کے حوالے سے نمائش کو نمایاں کرتا ہے جنہوں نے پہلے ہی جرمن موٹر ساز صنعت کو اربوں کا نقصان پہنچایا ہے۔
IfW کے صدر موریٹز شولارک نے کہا، 'اثرات نمایاں ہوں گے'، اور ادارے کے تجزیے کے مطابق طویل مدتی پیداوار کے نقصانات تقریباً 30 ارب یورو تک بڑھ سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ اگلے ہفتے آٹو ٹیرف کو پہلے طے شدہ 15 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیں گے، اور ان کا کہنا تھا کہ اس بلاک نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے کی پابندی نہیں کی۔
IfWکے ماہرِ اقتصادیات جولیان ہِنز نے کہا، 'جرمنی کی پہلے ہی سست شرح نمو کو سخت ضرب لگے گی۔'
ادارہ فی الحال توقع کرتا ہے کہ امسال جرمن معیشت 0.8 فیصد سے ترقی کرے گی۔۔
ادارے نے مزید کہا کہ اٹلی، سلوواکیہ اور سویڈن سمیت وہ دیگر یورپی معیشتیں جن میں موٹر ساز شعبہ اہم ہے، بھی نمایاں نقصانات کا سامنا کر سکتی ہیں۔
جرمن اقتصادی وزیر کے مشیرِ اعلیٰ نے ٹرمپ کے بارے میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔
جینس سوئڈیکم نے رائٹرز کو بتایا، 'یورپی یونین کو اس وقت بس انتظار کرنا چاہیے۔یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ٹرمپ اپنی ٹیرف دھمکیوں کو جلدی معطل یا واپس لے لیتے ہیں۔'
سوئڈیکم نے کہا کہ صدر کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ کیوں سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین موجودہ تجارتی معاہدے کی پابندی نہیں کر رہی، اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ تازہ ترین ٹیرف دھمکی کے لیے کوئی قانونی بنیاد موجود ہے یا نہیں۔













