دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ کی افغانستان کے خلاف پاکستانی فضائی آپریشنز کی حمایت
امریکی صدر: میں مداخلت کرتا تاہم میرے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ وہ بہت اچھا کر رہے ہیں۔
امریکہ کی افغانستان کے خلاف پاکستانی فضائی آپریشنز کی حمایت
Vyanzo vya usalama nchini Pakistani vilisema ghala la silaha na kituo cha usafirishaji viliharibiwa wakati wa mashambulizi huko Kandahar. / Reuters

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پڑوسی ملک افغانستان پر بمباری کرنے اور جھڑپوں کے بعد عبوری طالبان حکومت کے خلاف اعلان جنگ پر پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔

سیاسی امور کے انڈر سیکرٹری ایلیسن ہوکر نے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کے بعد جمعہ کو ایکس پر لکھا کہ"ہم صورتحال پر بغور نظر رکھےہوئے ہیں اور طالبان کے حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے پاکستان کے حق کی حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔"

اس سے قبل جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ امریکی مداخلت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "میں مداخلت کرتا تاہم میرے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ وہ بہت اچھا کر رہے ہیں۔"

کابل نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے اتوار کو اسلام آباد کی طرف سے افغانستان کے اندر فضائی حملوں پر پاکستان کے خلاف سرحدی حملے شروع کیے، جس میں بہت سے لوگ مارے گئے۔

پاکستان نے جمعہ کی صبح کابل، قندھار اور پکتیا صوبوں میں شدید گولہ باری اور تازہ فضائی حملوں کا جواب دیا۔

دریں اثنا، پاکستانی نجی نشریاتی ادارے دنیا نیوز کے مطابق، پاکستان نے سخت حفاظتی ماحول اور انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے،  فی الفورتمام ڈرون آپریشنز پر ملک گیر پابندی عائد کر دی ہے۔

پاکستان نے جمعہ کو کہا کہ افغان فورسز کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں اس کے 12 فوجی ہلاک اور 27 زخمی ہوئے ہیں۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ایک فوجی لاپتہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کابل، قندھار اور پکتیا صوبوں میں پاکستانی فضائیہ کی جانب سے جھڑپوں اور "مربوط" فضائی حملوں میں تقریباً 274 "افغان طالبان حکومت کے کارکن" ہلاک اور 400 کے قریب زخمی ہوئے اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی شہری نشانہ نہ بنے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ فضائی حملوں میں کور، بٹالین اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ ساتھ افغان فورسز کے گولہ بارود اور لاجسٹک اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

چوہدری نے کہا کہ افغان فریق نے پاک۔ افغان سرحد سے ملحقہ 53 مقامات پر 15 سیکٹرز میں فائرنگ اور حملے کیے اور دعویٰ کیا: "سرحد کے ساتھ موجود 73 افغان پوسٹوں کو تباہ کر دیا گیا، جب کہ 18 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ افغان فورسز کے تقریباً 115 ٹینک اور گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔

جاری جھڑپوں کی وجہ سے دونوں طرف سے دعووں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔

افغانستان کے ساتھ تنازعہ کے مرکز میں پاکستان کا یہ الزام ہے کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کی اعانت  کرتی ہے، بشمول تحریک طالبان پاکستان (یا ٹی ٹی پی)، جنہوں نے جنوبی ایشیا کے ملک کے اندر تباہ کن حملے کیے ہیں۔

عبوری افغان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے اور اصرار کرتی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کی صورتحال اس کا اندرونی مسئلہ ہے۔

ترکیہ، چین، روس اور قطر سمیت اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک نے تنازعہ میں ثالثی میں مدد کے لیے تیار ہونے کا عندیہ دیا ہے۔



دریافت کیجیے
بھارت: مودی۔ٹسک ملاقات، دفاع، خلاء اور ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون پر اتفاق
ملائیشیا: ہم، آسیان سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنائیں گے
ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
صدر ایردوان کا شام  اور ترکیہ کی خفیہ سروس کے کارکنان کے لیے تہنیتی پیغام
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کر دی
امریکی تجاویز اچھی ہیں مگر سیاسی رعائیتیں ملنا مشکل ہو گا:روس
اسرائیل نے غزہ میں 2 بچوں سمیت 7فلسطینی قتل کر دیئے
فرانس میں مظاہروں کے دوران واقعات میں 2 افراد ہلاک
مسک نے یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کر دی
امریکہ: ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں۔
امریکہ: جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
کولومبیا:سونے کی کان پر تودہ گر گیا،14 افراد ہلاک متعدد زخمی
پوٹن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
سوڈان: بس اسٹاپ پر ڈرون حملہ، 80 افراد ہلاک
یورپ کی بد امنی میں روس کا ہاتھ،کریملن نے مضحکہ خیز قرار دے دیا
یورپی سفارت کاروں پر حملے،یورپی یونین اور کینیڈا کی مذمت
تھائی لینڈ میں تیز بارشوں سے آنے والے سیلاب میں ایک مہینے میں 80 افراد ہلاک ہوگئے
کیف میٹرو اسٹیشن پر روسی فضائی حملہ، ایک عورت ہلاک
کریملن کی تجویز: روس۔امریکہ۔چین اجلاس ضروری ہے
فرانس: ملک بھر میں تشدد پھوٹ پڑے، لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات