سیاست
2 منٹ پڑھنے
ایران، امریکہ سے امتیاز نہیں اپنے حقوق کی واپسی طلب کر رہا ہے، تہران
"پابندیاں ختم کی جانی چاہئیں، ایران کی منجمد اثاثے جاری کیے جائیں اور ملک کے لیے دستیاب کیے جائیں۔'' ترجمان دفترِ خارجہ
ایران، امریکہ سے امتیاز نہیں اپنے حقوق کی واپسی طلب کر رہا ہے، تہران
"ایران کی جانب سے خطے یا دنیا کے کسی بھی فریق کے خلاف کوئی جوہری خطرہ نہیں رہا،" ایرانی ترجمان نے کہا/ تصویر: رائٹرز

نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ  سے کسی رعایت کی تلاش میں نہیں ہے اور زور دیا ہے کہ تہران صرف اپنے حقوق کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کا طلبگار  ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعہ کو کہا  کہ ''ہم  امریکہ سے کسی رعایت کے خواہاں نہیں ہیں؛ ہم صرف اپنے حقوق چاہتے ہیں۔''

ترجمان نے کہا کہ ایران مطالبہ کر رہا ہے کہ ''امریکہ کی ایرانی عوام کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کا خاتمہ'' کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ "پابندیاں ختم کی جانی چاہئیں، ایران کی منجمد اثاثے جاری کیے جائیں اور ملک کے لیے دستیاب کیے جائیں۔''

انہوں نے مزید کہا''گزشتہ پانچ دہائیوں سے ہم اُن اقدامات کے تابع رہے ہیں جنہیں وہ خود 'crippling sanctions' کہتے ہیں۔''

بقائی نے کہا کہ پابندیاں مختلف بہانوں کے تحت عائد کی گئی تھیں، بنیادی طور پر اس دعوے کی بنیاد پر کہ واشنگٹن ایران کو جوہری خطرہ سمجھتا ہے۔ایران کی طرف سے خطے یا دنیا میں کسی بھی فریق کے خلاف کوئی جوہری خطرہ موجود نہیں رہا۔

بقائی نے آبنائے  ہرمز سے متعلق حالات پر بھی بات کی اور امریکی بحری محاصرے کو ''بین الاقوامی قانون کے بالکل خلاف'' قرار دے کر تنقید کی۔

انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ اس محاصرے کو ختم کرنے کے اقدامات کرے۔

علاقائی کشیدگی اُس وقت سے بلند رہی جب امریکہ اور اسرائیل نے فروری میں ایران کے خلاف حملے کیے اور تہران نے جواب میں اسرائیل اور خلیج میں امریکی حلیفوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے، اور تنگِ ہرمز کو بند کر دیا گیا۔

پاکستانی ثالثی کے ذریعے 8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی، لیکن اسلام آباد میں مذاکرات ایک پائیدار معاہدہ یقینی بنانے میں ناکام رہے۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا جبکہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں تک یا ان سے جانے والی کشتیاں پر محاصرے کو برقرار رکھا گیا۔