کھیل
3 منٹ پڑھنے
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچویں رکن نے بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی
ایرانی خواتین کی ٹیم کی صرف دو کھلاڑی اور عملے کا ایک رکن آسٹریلیا میں موجود ہیں، جو ایک ایشیائی کپ میچ کے بعد وہاں رہ گئے تھے۔
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچویں رکن نے بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی
ٹیم ملائیشیا سے کسی دوسرے ملک کا سفر کرنا چاہتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے وہ فوری طور پر تہران واپس نہیں آ سکتی۔ / Reuters

آسٹریلوی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچویں رکن نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی ہے اور وہ ملائیشیا میں باقی اسکواڈ کے ساتھ دوبارہ شامل ہو گی۔

آسٹریلیا نے گزشتہ  ہفتے سات ایرانی فٹبالرز کو ہمدردانہ ویزے دیے تھے جب انہوں نے پناہ کی درخواست کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ وہ ویمنز ایشین کپ کے ایک میچ میں قومی ترانہ نہ گانے کے بعد وطن واپس جانے پر ظلم یا انتقام کے خوف سے پناہ چاہتی ہیں ۔

اس واپسی  فیصلے کے بعد چھ کھلاڑیوں میں سے صرف دو افراد اور ایک امدادی عملہ باقی رہ گئے ہیں۔

دعویٰ واپس لینے والے پانچوں افراد سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کُوالالمپور میں باقی ٹیم کے ساتھ مل جائیں گے، جہاں اسکواڈ گزشتہ ہفتے سڈنی سے روانہ ہونے کے بعد سے مقیم ہے۔

آسٹریلیا کے معاون وزیر برائے خارجہ امور میٹ تھِسل تھوئٹ نےسکائی نیوزکو بتایا کہ حکومت ان افراد کے فیصلے کا احترام کرتی ہے جو ایران واپس جانے کا انتخاب کر چکے ہیں، اور ہم آسٹریلیا میں موجود دونوں اراکین کو تعاون فراہم کرتے  رہیں گے۔

تھِسل تھوئٹ نے کہا کہ "یہ ایک بہت پیچیدہ صورتحال ہے۔"

ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) نے پیر کو کہا کہ ٹیم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے فوری طور پر تہران واپس نہیں جا سکتی، اس لیے وہ ملائیشیا سے کسی دوسرے ملک میں سفر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ٹیم پرواز کے رابطوں کی منتظر  ہے

ایرانی فٹبال ایسوسی ایشن نے کہا کہ توقع ہے کہ ٹیم جلد ہی ملائیشیا سے تہران کے لیے روانہ ہو گی تاکہ وہ 'ایک بار پھر اپنے خاندانوں اور وطن سے بغلگیر ہو سکے'۔

تاہم، AFC کے جنرل سیکرٹری وِنزَر جان نے کوالالمپور میں صحافیوں سے کہا کہ چونکہ وہ فوری طور پر ایران واپس نہیں جا سکتے، اس لیے ٹیم متبادل مقامات تلاش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ تصدیق  نہیں کر سکتے کہ کھلاڑیوں کے خاندانوں پر ایران میں حکام کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں نے اپنی حفاظت کے حوالے سے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ"ہم نے ٹیم کے عہدیداروں سے بات کی ہے۔ ہم نے کوچ اور وفد کے سربراہ سے بھی بات کی ہے۔ وہ حقیقتاً خوش مزاج ہیں۔"

"میں نے ذاتی طور پر ان سے ملاقات کی۔ وہ مایوس نہیں تھے، اور خوفزدہ نہیں دکھ  رہے تھے۔"

ایشیئن کپ میں ایرانی ٹیم کی مہم اسی وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔ انہیں ایک ہفتہ قبل ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواتین کو قیام کی اجازت دینے پر آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کی ستائش کی تھی اور سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اگر آسٹریلیا نے انہیں قبول نہیں کیا تو امریکہ تیار ہے کہ کھلاڑیوں کو  پناہ دے دے۔

 

دریافت کیجیے
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع
ترکیہ کی حوثیوں کی مکہ مکرمہ کے اطراف میں روکے گئے ڈراون حملے کی مذمت
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
ترکیہ اور آذربائیجان علاقے میں 'استحکام کے دو جزائر' کی حیثیت کے مالک ہیں، ترک وزیر خارجہ فیدان
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
ایران: ہم نے جزیرہ قشم  کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرا دیا ہے
"دینے کےلیے کچھ نہیں بچا"میں فٹ بال چھوڑ رہا ہوں:میسی
لاس اینجلس میں ہیلی کاپٹر حادثے میں تین افراد ہلاک
حماس کی رفح بریگیڈ کا کمانڈر مارا گیا ہے:اسرائیل
امریکہ اور شام کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر مذاکرات
مکہ پر حملے کی کوشش،او آئی سی کی مذمت