آسٹریلوی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچویں رکن نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی ہے اور وہ ملائیشیا میں باقی اسکواڈ کے ساتھ دوبارہ شامل ہو گی۔
آسٹریلیا نے گزشتہ ہفتے سات ایرانی فٹبالرز کو ہمدردانہ ویزے دیے تھے جب انہوں نے پناہ کی درخواست کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ وہ ویمنز ایشین کپ کے ایک میچ میں قومی ترانہ نہ گانے کے بعد وطن واپس جانے پر ظلم یا انتقام کے خوف سے پناہ چاہتی ہیں ۔
اس واپسی فیصلے کے بعد چھ کھلاڑیوں میں سے صرف دو افراد اور ایک امدادی عملہ باقی رہ گئے ہیں۔
دعویٰ واپس لینے والے پانچوں افراد سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کُوالالمپور میں باقی ٹیم کے ساتھ مل جائیں گے، جہاں اسکواڈ گزشتہ ہفتے سڈنی سے روانہ ہونے کے بعد سے مقیم ہے۔
آسٹریلیا کے معاون وزیر برائے خارجہ امور میٹ تھِسل تھوئٹ نےسکائی نیوزکو بتایا کہ حکومت ان افراد کے فیصلے کا احترام کرتی ہے جو ایران واپس جانے کا انتخاب کر چکے ہیں، اور ہم آسٹریلیا میں موجود دونوں اراکین کو تعاون فراہم کرتے رہیں گے۔
تھِسل تھوئٹ نے کہا کہ "یہ ایک بہت پیچیدہ صورتحال ہے۔"
ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) نے پیر کو کہا کہ ٹیم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے فوری طور پر تہران واپس نہیں جا سکتی، اس لیے وہ ملائیشیا سے کسی دوسرے ملک میں سفر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹیم پرواز کے رابطوں کی منتظر ہے
ایرانی فٹبال ایسوسی ایشن نے کہا کہ توقع ہے کہ ٹیم جلد ہی ملائیشیا سے تہران کے لیے روانہ ہو گی تاکہ وہ 'ایک بار پھر اپنے خاندانوں اور وطن سے بغلگیر ہو سکے'۔
تاہم، AFC کے جنرل سیکرٹری وِنزَر جان نے کوالالمپور میں صحافیوں سے کہا کہ چونکہ وہ فوری طور پر ایران واپس نہیں جا سکتے، اس لیے ٹیم متبادل مقامات تلاش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ کھلاڑیوں کے خاندانوں پر ایران میں حکام کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں نے اپنی حفاظت کے حوالے سے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ"ہم نے ٹیم کے عہدیداروں سے بات کی ہے۔ ہم نے کوچ اور وفد کے سربراہ سے بھی بات کی ہے۔ وہ حقیقتاً خوش مزاج ہیں۔"
"میں نے ذاتی طور پر ان سے ملاقات کی۔ وہ مایوس نہیں تھے، اور خوفزدہ نہیں دکھ رہے تھے۔"
ایشیئن کپ میں ایرانی ٹیم کی مہم اسی وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔ انہیں ایک ہفتہ قبل ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواتین کو قیام کی اجازت دینے پر آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کی ستائش کی تھی اور سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اگر آسٹریلیا نے انہیں قبول نہیں کیا تو امریکہ تیار ہے کہ کھلاڑیوں کو پناہ دے دے۔










