روس کے صدر ولادی میر پوتن نے ہفتے کے روز کریملن میں سلواکیہ کے وزیرِ اعظم رابرٹ فیکو سے ملاقات کے دوران کہا ہےکہ روس، سلواکیہ کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
سلواکیہ، یورپ کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جو اب بھی روس سے تیل اور قدرتی گیس خرید رہے ہیں۔
سلواکیہ، سوویت یونین کی تعمیر کردہ 'دروژبہ پائپ لائن' کے ذریعے روس سے تیل حاصل کرتا ہے، جبکہ قدرتی گیس،'ترک اسٹریم پائپ لائن' کے ذریعے ملک تک پہنچتی ہے۔
فیکو، دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کے لیے ماسکو میں تھے۔
پوتن نے قومی ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ "ہم سلواکیہ کی توانائی کے وسائل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پوری کوشش کریں گے"۔
اگرچہ روسی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ فیکو، ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں متوقع، پریڈ تقریب میں شرکت کریں گےلیکن فیکو تقریب میں شریک نہیں تھے۔
یورپی یونین کا رُکن ملک سلواکیہ، روس کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اپنے بنیادی ڈھانچے کو روسی توانائی ذرائع کے مطابق تعمیر کرنے کے بعد روسی سپلائی ترک کرنا بہت مہنگا ثابت ہوگا۔










