ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں "جنگ کے اختتام کا تعین" کریں گے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیشن گوئی کی تھی کہ یہ جنگ جلد ختم ہو سکتیہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو ایک بیان میں کہا، "یہ ہم ہیں جو جنگ کے اختتام کا تعین کریں گے۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "خطے کے معاملات اور مستقبل کی صورتحال اب ہماری مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے، نا کہ مریکی افواج کے ہاتھ میں ۔"
یہ بیانات ٹرمپ کے اسی نوعیت کے تبصروں کے بعد سامنے آئے، جن میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے ایک علیحدہ بیان میں، سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر امریکی اور اسرائیلی حملے جاری رہے تو تہران خطے سے تیل کی برآمدات کی اجازت نہیں دے گا۔
آئی آر جی سی کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگر ملک پر حملے برقرار رہے تو ایران "ایک لیٹر تیل" بھی برآمد نہیں ہونے دے گا۔
بیانات میں شدت
ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کرے تو اسے کہیں زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے تیل کی رسد کو روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا تو اسے "موت، آگ اور غضب" کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی فراہمی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو حملے "بیس گنا زیادہ طاقتور" ہوں گے۔
دریں اثنا، پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ان کی فورسز نے خطے بھر میں 10 جدید امریکی ریڈار نظام اور متعدد ڈرون تباہ کیے ہیں۔
آئی آر جی سی نے ٹرمپ پر ایران کی عسکری طاقت کو کمزور دکھانے کے "جھوٹے دعوے" کرنے کا الزام عائد کیا، اور کہا کہ وہ رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور جنگ پر دباؤ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعوے بھی مسترد کیے کہ ایران نے میزائل لانچ کم کیے ہیں، اور کہا کہ ملک زیادہ طاقتور میزائل فائر کر رہا ہے جن کے وارہیڈ ایک ٹن سے زیادہ وزن کے حامل ہیں۔






