ایک اسرائیلی اخبار میں شائع کالم میں دعوی کیا گیا ہے کہ اگر نوجوان امریکی ایران پر حملے میں شامل ہونے پر راضی ہوں تو امریکہ اُن کے قرض معاف کر دےگا، اورراقم کا استدلال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ محض فضائی بمباری سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ ملک پر قبضہ یا کنٹرول ضروری ہوگا، جس کے لیے تا 15 لاکھ تک فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یہ چونکا دینے والی تجویز کہ نوجوان مقروض امریکیوں کو ایران کے خلاف ڈھال کے طور پر استعمال کیا جائے، اے جے جاف نامی ایک ریٹائرڈ افسر نے دی، جنہوں نے کینیڈین مسلح افواج میں خدمات انجام دی تھیں اور یہ رائے انہوں نے یوروشلم پوسٹ میں شائع اپنے کالم میں پیش کی۔
اپنے دلائل میں جاف نے کہا ہے کہ مہینوں پر محیط امریکی کارروائیوں کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت تباہ نہیں ہوئی اور جنگ ختم نہیں ہوئی، اور زمینی حملہ موجودہ امریکی فورسز سے کہیں زیادہ فوجی دستوں کا تقاضا کرے گا۔
کالم نویس کے مطابق "بھرتی کی تعداد اس سطح سے کم ہے جو ایران میں بری حملے کے لیے درکار ہو گی۔ ایران کے 31 صوبائی کمانڈز اور اس کی موزیک دفاعی حکمتِ عملی کے خلاف کامیاب زمینی مہم کے اندازے 750,000 سے 1.5 ملین امریکی فوجیوں کے درمیان ہیں۔ موجودہ فعال امریکی فوج کی نفری تقریباً 4 لاکھ 52 ہزار ہے۔ یہ حساب واضح طور پر نہیں بنتا۔"
جاف کا کہنا ہے کہ امریکی تاریخ ایک قابل قبول راستہ پیش کرتی ہے: روایتی جبری جنگی بھرتی کے بجائے قرضہ معافی پروگرام کے ذریعے بھرتی۔
راقم نے لکھا ہے کہ : "18 تا 34 سال کی عمر کے عام امریکی کے پاس غیر رہن قرضہ جات—یعنی تعلیمی قرض، کریڈٹ کارڈ بیلنس، گاڑی کا قرض اور ذاتی قرضے— ان پر اوسطاً 40,000 ڈالر سے زیادہ کا بوجھ ہوتا ہے، اور بعض اندازے ایک لاکھ ڈالرتک جاتے ہیں،" اور اس عمر کے لوگ وہ طبقہ ہیں جسے پینٹاگون کو ضرورت ہے۔
کالم نگار کا مزید کہنا ہے: "ایک وفاقی طور پر نافذ کردہ قرض معافی بھرتی پروگرام جو 24 یا 36 ماہ کی فوجی خدمات کے بعد تعلیمی قرض، کریڈٹ کارڈ اور دیگر قرضے مکمل طور پر ختم کر دے، اور GI بل کو بڑھا دے، تو یہ بڑی پیمانے پر رضاکارانہ بھرتی کا موقع پیدا کرے گا۔"
غیر معمولی تجویز
تقریباً 77 فیصد امریکیوں کے سر پر کسی نہ کسی قسم کا قرض موجود ہے۔ یہ اندازً 250 تا 260 ملین افراد بنتے ہیں جنہیں مختلف مالی ذمہ داریوں کا سامنا ہے، اور اس کا حصہ تاریخی طور پر مجموعی امریکی اندرونی قرض 18.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ امریکی بالغوں کا اوسط قرض 63,500 ڈالر ہے۔
جاف ایسے بھرتی منصوبوں کے امریکی سابقوں کا حوالہ دیتے ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ دوسری عالمی جنگ نے GI بل متعارف کروایا جب کہ ویتنام جنگ نے کالج کی مؤخر ادائیگیوں کی پیشکش کی راہ پیدا کی تھی۔
راقم نے زور دیا ہے کہ نائن ۔ الیون کے بعد کی جنگوں نے سائننگ بونسز اور شہریت کےمتبادل پیش کیے۔ ایران جنگ کو قرض میں چھوٹ پیش کرنی ہوگی۔ مقروض امریکی 20 اور 30 سالہ افراد کی اقتصادی حالت پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ سب سے موثر تبدیلی کا طریقہ بناتی ہے۔
اگرچہ اس نے اس اسکیم کو اخلاقی طور پر تکلیف دہ قرار دیتے ہیں مگر ساتھ ہی اسے پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ کا "سب سے موثر تبادلۂ میکانزم" بھی قرار دیتے ہوئے استدلال کیا ہے کہ ممالک اپنی مخصوص آبادیوں کے مطابق مراعات دے کر فوج بھرتی کرتے ہیں۔
جاف کے مضمون نے یہ خوفناک منصوبہ واشنگٹن کے لیے ایران کو شکست دینے کے تین غیر قوتی (non-kinetic) آپشنز میں سے ایک کے طور پر پیش کیا، جن کے ساتھ امریکی کانگریس کی جانب سے ایرانی اقلیت کی خودمختاری کو تسلیم کرنا اور ایرانی تیل پر چین کے ساتھ ایک معاہدہ بھی شامل تھا۔
اس مضمون پر وسیع پیمانے پر تنقید کی گئی، کئی لوگوں نے ان تجاویز کو امریکی نقطۂ نظر سے ناکارہ قرار دیا، بعض نے مصنف کی اہلیت پر سوال اٹھائے، اور کچھ کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران کے خلاف "آخری امریکی تک" لڑنا چاہتا ہے۔
خبری اداروں جیسے The Blaze نے اس تجویز کو امریکی مقروضیت کا ایک "بے حیائی" یا Cynical استحصال قرار دیتے ہوئے پیش کیا۔ انہوں نے جاف کے منصوبے کو ایک غیرمعمولی تجویز بتایا کہ قرضوں میں ڈوبے نوجوان امریکیوں کو فرنٹ لائن پر بھیجا جائے۔
ایک اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ کی طرف سے امریکی ٹیکس دہندگان سے دوبارہ جنگ کی مالی مدد مانگنے کے طور پر بیان کیا۔




















