ایرانی رہبر اعلی کے امورِ بین الاقوامی کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ "غیر ملکی افواج" کو خطے سے چلے جانا چاہیے، کیونکہ ان کی موجودگی ہی بدامنی کی بنیادی وجہ ہے۔
ایکس (X) پر جاری اپنے ایک بیان میں ولایتی نے کہا، "حالیہ پیش رفت مسلح افواج کی لچک، ایرانیوں کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کی جرات کی عکاسی کرتی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "امریکہ اور صیہونی حکومت کی شکست نے اس یقین کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ غیر ملکی افواج، جو بدامنی کی اصل وجہ ہیں، انہیں خطے سے نکل جانا چاہیے۔"
ولایتی نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر یہ بھی کہا کہ "علاقائی ریاستوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے کو محفوظ بنا سکتا ہے۔"
یاد رہے کہ علاقائی تناؤ میں اس وقت شدید اضافہ ہوا تھا جب اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے فوجی، جوہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے مربوط حملے کیے تھے۔ جواب میں تہران نے پورے خطے میں اسرائیلی اور امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
بعد ازاں، پاکستان اور قطر کی ثالثی سے ایران اور امریکہ نے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے، جس سے فعال دشمنی کا خاتمہ ہوا اور ایک حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوا۔ تاہم، یہ مذاکرات خلیجی تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے بحری راستے 'آبنائے ہرمز' میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سیکیورٹی کے تنازعات پر تعطل کا شکار ہو گئے۔














