دنیا
2 منٹ پڑھنے
ایرانی اثاثے امریکی نگرانی میں رہیں گے: ٹرمپ
امریکہ وزارتِ  خزانہ کی طرف سے آزاد کئے جانے والے کسی بھی ایرانی اثاثے پر کڑی امریکی نگرانی برقرار رہے گی: ڈونلڈ ٹرمپ
ایرانی اثاثے امریکی نگرانی میں رہیں گے: ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی فنڈز واشنگٹن کے زیرِ کنٹرول ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھے جائیں گے اور انہیں صرف خوراک اور طبی سامان تک محدود رکھا جائے گا۔ (AA)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وزارتِ  خزانہ کی طرف سے آزاد کئے جانے والے کسی بھی ایرانی اثاثے پر سخت امریکی نگرانی برقرار رہے گی۔

منگل کو ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ آزاد کئے گئے کسی بھی ایرانی اثاثے  کو کڑی امریکی نگرانی میں رکھا جائے گا اور  انہیں  صرف امریکہ سےانسانی اشیائے ضرورت  کی خریداری کے لئے ہی  استعمال کیا جا سکے گا ۔

ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ "امریکہ وزارتِ خزانہ کی طرف سے آزاد کیا گیا کوئی بھی منجمد اثاثہ یا رقوم  واشنگٹن کے زیرِ کنٹرول امانت اکاونٹوں میں رکھے جائیں گےاور خصوصی طور پر امریکہ سے خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال ہوں گے"۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس انتظام سے امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ مکئی، گندم اور سویا بین کی برآمدات میں اضافہ ہوگا جن کی ایران میں  درپیش انسانی بحران کے دوران اشد ضرورت ہے۔

جوہری معاہدے سے منسلک تیل لائسنس

ٹرمپ نے مذکورہ بیانات،  وزاتِ خزانہ کے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عارضی 60 روزہ لائسنس جاری کرنے کے بعد، دیئے ہیں۔ یہ  60 روزہ لائسنس    واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی  میں کمی کےزیرِ  مقصد  بنائے گئے  'نئے جوہری فریم ورک' کے تحت ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دیتا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ پابندیوں میں کسی بھی نرمی کے لئے اٹھایا جانے والا ہر قدم نہایت منّظم ہو گا  اور مخصوص شرائط سے مشروط رکھا جائے گا۔ اثاثوں کو آزاد کرتے ہوئے  انسانی ہمدردی کی ضروریات کو اوّلین ترجیح دی جائے گی۔

ہرمز میں تیل کے بہاؤ پر زور

سوشل میڈیا سے جاری کردہ ایک اور بیان میں ٹرمپ نے آبنائے  ہرمز کے ذریعے تیل کی ریکارڈ  آمد و رفت کی طرف اشارہ کیا اور دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے 19 ملین بیرل تیل گزرا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تیل کے بہاؤ میں اضافہ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور عالمی استحکام  کی تقویت  میں معاون ثابت ہو رہا  ہے۔ یہ صورتحال،  ایران کو بھی احاطے میں لینے والی،  ماضی قریب کی سفارتی کوششوں  کے بعدہونے والی  پیش رفتوں کا ایک اشارہ ہے۔

دریافت کیجیے