ترکیہ کے اقوام متحدہ میں دائمی مندوب احمد یلدز نے کہا کہ شام صحیح راہ پر ہے، تا ہم اسرائیل کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیوں نے مثبت پیش رفت پر کاری ضرب لگائی ہے۔
یلدز نے 'مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال' کے عنوان سے شام میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے منعقدہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں خطاب کیا۔
انہوں نے کہا، 'سالہا سال سے جاری سنگین جھڑپوں کے بعد 24 دسمبر سے شام کے عوام نے جو مزاحمت دکھائی ہے وہ ہمیں آنے والے کل کے لیے امید دلاتی ہے۔'
یلدز نے کہا کہ شام کو درپیش مشکلات جتنی بڑی بھی ہوں، وہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے ملک کے معمول پر آنے کے عمل میں اٹھائے گئے چند خوش آئند اقدامات کی مثالیں پیش کیں۔ جن میں قومی اسمبلی کو مکمل طور پر فعال قانون ساز ادارے میں تبدیل کرنا اور قومی اسمبلی کی طرف سے اسد دور کی دہشت گردی سے متعلق عدالتوں کو کالعدم قرار دینےو الے مسودے کی متفقہ منظوری شامل ہیں۔
تاہم، شام کے سکیورٹی مسائل کے جاری ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یلدز نے کہا، 'ہمیں اس بات پر مسرت ہے کہ شامی حکومت داعش کو دائمی طور پر شکست دینے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کی کوششیں کر رہی ہے اور عالمی اتحاد کے ساتھ تعاون کے ذریعے اس عزم کا اظہار کر رہی ہے۔'
یلدز نے مزید کہا، 'داعش کے خلاف حکمتِ عملی کو میدانِ عمل میں نئی حقیقتوں کے مطابق ڈھالتے ہوئے شام کو اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط اور پیشہ ورانہ سکیورٹی اداروں کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ان اداروں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی حمایت کا تسلسل ضروری ہے۔'
اسرائیل کے لا پرواہ اقدامات کو روکا جائے
، یلدز نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کی جانب سے شام کی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کی مسلسل خلاف ورزیوں نے ملک میں مثبت پیش رفت کو نقصان پہنچایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال خصوصاً شام کے جنوب میں تشویشناک ہے اور وہاں جاری اسرائیلی فوجی مداخلتیں، توسیع پسندانہ کارروائیاں اور جنگیں قابو سے باہر ہو رہی ہیں۔
یلدز نے کہا، 'ان لا پرواہ اقدامات کو روکا جانا چاہیے۔ اسرائیل کو 1974 کے معاہدے اور متعلقہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں، بالخصوص قرارداد نمبر 497 کی پوری طرح پابندی کرنی چاہیے اور قابض شامی گولان کی پہاڑیوں سے انخلاء کرنا چاہیے۔'
یلدز نے کہا کہ ایک ایسا مستحکم اور خودمختار شام جو اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا سکے اور علاقائی امن اور اقتصادی تعاون میں حصہ ڈال سکے، بشمول اسرائیل کے سب کے مفاد میں ہوگا ۔ انہوں نے کہا، 'ترکیہ شام کی خودمختاری، سیاسی یکجہتی اور علاقائی سالمیت کے ساتھ اپنی وابستگی کو مضبوطی سے برقرار رکھتا ہے۔ ہم ایک مستحکم، محفوظ اور خوشحال شام کے لیے اپنے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔'















