دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکی سینٹ نے دفاعی بل مسترد کر دیا
امریکی سینٹ نے 1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی پالیسی بل کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔
امریکی سینٹ نے دفاعی بل مسترد کر دیا
امریکی سینیٹ 1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بل آگے بڑھانے میں ناکام۔ / Reuters

امریکی سینٹ میں ہونے والی رائے شماری میں 1.15 ٹریلین ڈالر کے سالانہ نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ 'ین ڈی اے اے' کے اگلے مرحلے کی حمایت میں مطلوبہ ووٹ حاصل نہیں ہو سکے۔

بل  60 درکار ووٹوں کی جگہ  50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے مسترد ہو گیا ہے۔

رائے شماری زیادہ تر جماعتی خطوط کے مطابق ہوئی۔ سینٹ میں اکثریتی رہنما جان تھون نے بعد میں اس تجویز کو دوبارہ پیش کرنے کا اختیار برقرار رکھنے کے لیے اپنا ووٹ "ہاں" سے تبدیل کرکے "نہیں" کر دیا۔

چار سینیٹروں نےرائے شماری  میں حصہ نہیں لیا: جان فیٹرمین، جم جسٹس، مچ میک کونل اور الیکس پیڈیلا۔

فنڈنگ سے متعلق اختلافات

این ڈی اے اے کو گزشتہ ماہ سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی نے دو جماعتی حمایت کے ساتھ 18 کے مقابلے میں 9 ووٹوں سے منظور کیا تھا، تاہم حالیہ ہفتوں میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اراکین کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

سینیٹر دفاعی اور غیر دفاعی اخراجات کی حد سے متعلق اختلافات دور نہ کر سکے، جس کے باعث بل سینٹ کے مکمل اجلاس میں اگلے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔

ڈیموکریٹ اراکین نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی امریکی فوجی کارروائیاں اس بل کی مخالفت کی ایک اہم وجہ ہیں۔

انہوں نے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے لیے کانگریس سے پیشگی منظوری نہ لینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے حملوں کا آغاز کرتے وقت کانگریس کی منظوری حاصل کرنے کا آئینی مرحلہ نظر انداز کیا ہے۔

اس ناکام رائے شماری کے بعد سالانہ دفاعی اختیارات سے متعلق بل سینٹ میں تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ توقع ہے کہ ریپبلکن قیادت آئندہ کسی مرحلے پر اس بل کو دوبارہ زیرِ غور لائے گی۔