اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کے ساتھ تعاون کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کر لیا ہے۔
روزنامہ دی وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ان عراقی فوجیوں پر فضائی حملے بھی کئے جو اُس اڈے کو دریافت کرنے کے قریب تھے۔
اخبار کے مطابق یہ ہراول فوجی اڈہ جنگ کے آغاز سے کچھ ہی پہلے امریکہ کے علم میں قائم کیا گیا لیکن عراقی حکومت کو اس کی نہ تو اطلاع دی گئی اور نہ ہی منظوری حاصل کی گئی تھی۔
عراقی سرکاری میڈیا کی جانب سے، ایک چرواہے کے مشتبہ فوجی سرگرمیوں کو دیکھنے کی، خبر نشر کئے جانے کے بعد عراقی فوجیوں نے تحقیقات شروع کیں اور مارچ کے آغاز میں یہ اڈہ تقریباً بے نقاب ہو گیا تھا۔
اسرائیل نے عراقی افواج کو اڈے تک پہنچنے سے روکنے کے لیے فضائی حملے کیے جن میں ایک عراقی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔ عراقی حکومت نے اس حملے کی مذمت کی تھی۔
عراق کی مشترکہ آپریشن کمانڈ کے نائب کمانڈر قیص المحمداوی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ "یہ لاپرواہ کارروائی کسی بھی قسم کے رابطے یا منظوری کے بغیر انجام دی گئی ہے"۔
خبر کے مطابق اسرائیلی فوجیں اس اڈے کو اسرائیلی فضائیہ کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کر رہی تھیں اور وہاں جاسوس اور امدادی ٹیمیں بھی تعینات تھیں۔
اسرائیلی فوج نے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ28 فروری کے بعد سے علاقائی کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ۔ یہ کشیدگی ایران کی طرف سے جوابی کارروائی اور آبنائے ہرمز کی بندش کا سبب بنی۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہوئی جسے بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی حتمی تاریخ کا تعین کیے بغیر طویل کر دیا تھا۔











