ایک تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے ساتھ امریکی-اسرائیلی جنگ نے امریکی شہریوں کو توانائی کی اضافی قیمتوں کی صورت میں 37.4 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے ایران وار انرجی کاسٹ ٹریکر کا اندازہ ہے کہ 28 فروری سے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، امریکیوں نے اضافی اخراجات کے طور پر 37.4 ڈالر سے زیادہ ادا کیے ہیں۔
ڈیٹا حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ ہو رہا ہے، اور مجموعی رقم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
اضافی لاگت کا بڑا حصہ—20.41 بلین ڈالر—پیٹرولیم کی مد میں ادا کیا گیا، جب کہ ڈیزل تقریباً 17 بلین ڈالر بنتا ہے۔
امریکہ کے اوسط گھرانے نے ماہانہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر اوسطاً 285.10 ڈالر زیادہ ادا کیے ہیں۔
منصوبے کے سربراہ جیف کولگن نے کہا، "یہ ایک ایسا خرچ ہے جو براہِ راست امریکی صارفین کی جیب سے نکل رہا ہے۔"
ہرمز میں خلل
جنگ اور ایران کے جوابی اقدام کے طور پر انتہائی اہم ہرمز گزرگاہ کو بند کرنے کےعمل— نے عالمی توانائی کی قیمتوں کو تیزی سے بڑھایا ہے۔
آج امریکہ میں اوسطاً ایک گیلن پیٹرول کی قیمت 4.52 ڈالر ہے، جو جنگ کے آغاز پر قیمتوں کے تین ڈالر سے کم ہونے کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری چوراہوں میں شامل ہے۔
اس کی طویل بندش نے علاقائی بندرگاہوں، ترسیلی گزرگاہوں اور پہلے ہی سکیورٹی کے خطرات سے دباؤ کی شکار عالمی سپلائی چین پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
گزرگاہ کو بند کرنے کے علاوہ، ایران نے امریکی خلیجی عرب اتحادیوں کے اہم توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جس سے تنازعے کا معاشی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔










