غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل غیر قانونی رہائشی بستیوں کا پھیلاو بند کرے: اقوام متحدہ
یہ بستیاں قبضے کو مزید تقویت دے رہی اورمغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کو الگ کر کے دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید دُور کر رہی ہیں: دوجارک
اسرائیل غیر قانونی رہائشی بستیوں کا پھیلاو بند کرے: اقوام متحدہ
Dujarric subrayó que la nueva designación sigue afectando el acceso a los servicios esenciales de salud. / AA

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے، مقبوضہ مغربی کنارے کی تقسیم سے متعلقہ،  نئے غیر قانونی منصوبے کی حمایت سے قبضہ مزید گہرا ہو جائے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

 جمعرات کو نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ"غیر قانونی بستیوں کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے۔ مشرقی القدس سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں اور ان بستیوں کے قیام کی ذمہ دار حکومت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزلل سموٹرچ کے، رہائشی بستیوں کے  ذریعے مقبوضہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے، منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے دوجارک نے کہا ہے کہ"واضح الفاظ میں کہا جائے تو یہ بستیاں قبضے کو مزید تقویت دے رہی اورمغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کو الگ کر  کے دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید دُور کر رہی ہیں"۔

انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ "اس عمل کو آگے بڑھانا بند کرے"۔

تباہ کن نتائج

انہوں نے کہا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے  انسانی امور 'او سی ایچ اے' کے مطابق گذشتہ دو دنوں میں غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملوں اور بمباری میں اضافہ ہوا ہے اور دیر البلاح کے مرکز اور خان یونس کے جنوب میں بھی حملے جاری ہیں۔حملوں میں بے گھر افراد کی رہائش گاہوں اور خیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

دوجارک نے  غزہ کے 86 فیصد حصے کے اس وقت اسرائیلی فوجی علاقوں میں منتقل کئے جانے  یا  پھر نقل مکانی کے احکامات کی زد میں ہونے کا ذکر کیا اور  متنبہ کیا  ہے کہ"علاقے میں  مزید زمینی نقصان ، بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے احکامات  یا گنجان آباد علاقوں پر حملوں میں شدت کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا  ہےکہ اسرائیل نے پانچ ماہ سے زائد عرصے سے خیموں کی امداد  کے علاقے میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے جس کی  وجہ سے لاکھوں افراد براہ راست  گرمی کی زد میں ہیں۔ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریبا ہر شخص کم از کم ایک بار  ضرور بے گھر ہو چکا ہے۔ انہیں  جو عارضی پناہ گاہیں میّسر تھیں وہ یا تو خراب ہو چُکی ہیں یا پھر بمباری سے فرار کے دوران پیچھے رہ  گئی ہیں۔

دریافت کیجیے
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی