ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ترکیہ کے مشرق وسطی میں اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات
ترک وزارت خارجہ: ترک شہری عراق، ایران، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، شام، عمان اور اردن سے مختلف سفری راستوں کے ذریعے روانہ ہو سکتے ہیں۔
ترکیہ کے مشرق وسطی میں اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات
ترکیہ جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا رہا ہے۔ / AA
3 گھنٹے قبل

ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت  ہفتے کو امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں کے نتیجے میں ایران  کے ساتھ چھڑنےو الی جنگ سے متاثرہ  اپنے شہریوں سے مشرقِ وسطیٰ ممالک میں اپنے سفارتی مشنز کے ذریعے مدد کر رہی ہے ۔

اونجو کیچیلی نے جمعہ کو ایک پوسٹ میں کہا کہ خطے میں حملوں کے ہدف بننے والے ممالک میں ترک شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ترکیہ کے بیرونِ ملک سفارتی مشنز ایمرجنسی ہاٹ لائنز  ہر روز چوبیس گھنٹے چلانے کے پابند ہیں اور شہریوں کو اُن ممالک میں ترک نمائندہ دفاتر  کے اعلانات کا قریبی طور پر جائزہ لینا  چاہیے۔

کیچیلی نے کہا کہ ترک شہری عراق، ایران، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، شام، عمان اور اردن سے مختلف سفری راستوں کے ذریعے روانہ ہو سکتے ہیں، ان ممالک میں موجود سفارتی مشنز محفوظ سفر کے انتظامات کے بارے میں رہنمائی فراہم کر رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘‘اس وقت بحرین، قطر اور کویت سے ترکیہ کے لیے براہِ راست فضائی رابطہ موجود نہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات سے ترکیہ کے لیے پروازیں نایاب ہیں اور صرف غیر معمولی حالات میں ہی چلائی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے  چاروں ممالک سے سعودی عرب اور عمان تک ترک شہریوں کی زمینی نقل مکانی کے لیے بس سروسز منظم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جہاں سے وہ ترکیہ کے لیے پرواز کر سکیں گے۔ تاہم بس سروسز کے آغاز کے لیے مقامی حکام کی منظوری درکار ہے۔

کیچیلی نے بتایا کہ خطے کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ترک شہریوں پر زور دیا کہ وہ اُن ممالک میں موجود سفارتی مشنز کے اعلانات پر عمل کریں۔

یہ بیان اس وقت جاری ہوا جب ایران پر جاری اسرائیلی-امریکی حملے کے دوران مبینہ طور پر ہفتے کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور اعلیٰ فوجی حکام بھی شامل ہیں۔

ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکی اثاثے موجود خلیجی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے ڈراون اور میزائل حملوں کے ذریعے جوابی کارروائیاں کی ہیں۔