ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ "سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے"۔ انہوں نے امریکہ اور متحدہ عرب امارات کو آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھانے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'X' پر اپنے بیان میں عراقچی نے کہا کہ "ہرمز کے واقعات واضح کرتے ہیں کہ سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششوں سے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، اس لیے امریکہ کو بدخواہوں کے ہاتھوں دوبارہ کسی دلدل میں دھنسنے سے بچنا چاہیے۔ اور یہی مشورہ متحدہ عرب امارات کے لیے بھی ہے"۔
عراقچی نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو بحفاظت نکالنے کے واشنگٹن کے "پروجیکٹ فریڈم" نامی منصوبے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا: "پروجیکٹ فریڈم دراصل پروجیکٹ ڈیڈ لاک ہے"۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈنمارک کی جہاز رانی کی بڑی کمپنی Maersk نے بتایا کہ اس کا ایک مال بردار جہازجو امریکی پرچم تلے سفر کر رہا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔
ایران نے پیر کے روز متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی حملے کیے۔ میزائلوں اور ڈرونز کے یہ نئے حملے گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد اس نوعیت کے پہلے واقعات ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے بعد میں اطلاع دی کہ ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کی چوتھی لہر بھیجی گئی، تاہم اس کے فضائی دفاعی نظام نے 15 میزائلوں اور چار ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
ایران سے داغے گئے ایک ڈرون کے لگنے سے 'فجیرہ آئل انڈسٹری زون' میں آگ لگ گئی، جو متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر توانائی کا ایک اہم مرکز ہے۔











