سیاست
3 منٹ پڑھنے
ایران-امریکہ مذاکرات استنبول میں ہونے کا امکان
ایک عرب عہدیدار نے حساس مذاکرات پر بات چیت کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں اور سینئر ایرانی حکام کے درمیان ایک ملاقات جمعے کو ترکیہ میں ہوگی
ایران-امریکہ مذاکرات استنبول میں ہونے کا امکان
امریکہ-ایران / Reuters

 ایک عرب عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ  امریکہ اور ایران کے درمیان ملاقاتیں ممکنہ طور پر 6 فروری کو ترکیہ میں ہوں گی۔

  واضح رہے کہ  تہران نے جوہری مذاکرات کی از سرِ نو شروعات کا مطالبہ کیا تھا اور واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اس کے نتائج مرتب ہوں گے۔

ایک عرب عہدیدار نے حساس مذاکرات پر بات چیت کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں اور سینئر ایرانی حکام کے درمیان ایک ملاقات جمعے کو ترکیہ میں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ ملاقات ترکیہ، مصر، قطر اور عمان کی مداخلت کے بعد طے پائی تھی۔

دریں اثنا، ایک امریکی عہدیدار نے پیر کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعے کو استنبول میں ممکنہ جوہری معاہدے اور دیگر امور پر بات کرنے کے لیے ملنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے  ایک عہدیدار نے پہلے کہا  تھا کہ تہران جلد ہی امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی شرائط پر غور کر رہا ہے اس کے بعد دونوں  فریقوں  نے طویل المدتی جوہری تنازعے پر دوبارہ سفارتکاری بحال کرنے کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا اور خطے میں نئی جنگ کے خدشات کو دور کرنے کی نیت ظاہر کی ہے ۔

 جمعے کی  ممکنہ  ملاقات کی پہلی رپورٹ ایکسِئَس نیوز سائٹ نے شائع کی ہیں  جس میں کہا گیا کہ ترکیہ، پاکستان، قطر، مصر، عمان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ  کی بھی اس سربراہی اجلاس میں شرکت  متوقع ہے۔

دریں اثنا ٹرمپ نے اس قیامت خیز منظر کو اُبھارتے رہنے کا سلسلہ جاری رکھا کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو شاید بری چیزیں ہوں گی۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت ایران کی جانب جانے والے بحری جہاز ہیں  جبکہ ہماری  ایران کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے دیکھیں  آگے کیا ہوتا ہے لیکن  فی الوقت  ہم اُن سے بات کر رہے ہیں اور اگر ہم کچھ طے کر سکیں تو یہ بہت اچھا ہوگا اور اگر ہم نہ کر پائے تو شاید بری چیزیں ہوں گی۔

یاد رہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے  کہ تہران سفارتکاری کے لیے تیار ہے۔

عراقچی نے پیر کو ایران کے 1979 کے انقلاب کے معمار روح اللہ خمینی کے مزار کے دورے کے دوران کہا کہ سفارتکاری کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں، مجھے امید ہے کہ ہم جلد نتائج دیکھیں گے۔'

 اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے والےایران کے دشمن، جو چاہے پچھلے سال کی 12 روزہ جنگ کے ذریعے ہو یا حالیہ احتجاجات کے ذریعے اب سفارتکاری کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ یہی فریق آج سفارتکاری کی بات کر رہے ہیں حالانکہ ایران ہمیشہ اس آپشن کے لیے تیار رہا ہے بشرطیکہ باہمی احترام اور مفادات کا لحاظ رکھا جائے۔

 

دریافت کیجیے
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کی حامل جیلوں کے گرد مگر مچھ چھوڑنے پر غور
امریکہ۔ ایران کشیدگی اور بحرِ احمر میں آمدورفت کے بند ہونے کے خطرات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یوگنڈا میں اسکول بس حادثے میں کم از کم 21 افراد لقمہ اجل
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ملائیشیا میں کسی بھی اسرائیلی کو پایا گیا تو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا: انور ابراہیم
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ