سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ کی معاہدے کی امیدیں اور زیلنسکی کی تنقید
یوکرین ہمیشہ اپنے آئین کے مطابق عمل کرے گا اور ہمیں پورا یقین ہے کہ امریکہ سمیت ہمارے تمام اتحادی اپنےمحکم فیصلوں کے مطابق عمل کریں گے۔
ٹرمپ کی معاہدے کی امیدیں اور زیلنسکی کی تنقید
Zelenskyy said during a press conference in Kiev that there is "nothing to talk about" concerning the issue because it is against the country's constitution. / Reuters

امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت میں  یقین ظاہر کیا ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ایک معاہدہ ہو سکتا ہے۔

تاہم، بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں  انہوں نے اشارہ دیا  ہے کہ زیلنسکی کے ساتھ معاہدہ اب بھی مشکل ہے اور یہ کہ  یوکرین کے  رہنما کے ساتھ اتفاق رائے پر پہنچنا  پوتن کے مقابلے میں زیادہ دشوار ہے ۔

دوسری جانب زیلنسکی نے، کریمیا پر روسی قبضے کو  تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے، یوکرین پر  امریکی تنقید کی بھی مخالفت کی ہے۔

بدھ کے روز، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر جاری کردہ بیان میں  کہا ہے کہ زیلنسکی کی کریمیا کو مذاکرات سے باہر رکھنے کی شرط جاری امن مذاکرات کے لیے 'بہت نقصان دہ' ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ  'کوئی بھی زیلنسکی سے یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ کریمیا کو روسی علاقہ تسلیم کریں۔ لیکن اگر انہیں  کریمیا اتنا ہی پیارا ہے تو  گیارہ سال پہلے  انہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے اسے روس کے حوالے کیوں کر دیا تھا؟ '

زیلنسکی نے کیف میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا  ہے کہ اس مسئلے پر  اب کہنے کو کچھ نہیں رہا کیونکہ یہ ملکی آئین کے خلاف ہے۔

انہوں نے  ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں ایکس سے جاری کردہ بیان  میں کہا ہے کہ 'یوکرین ہمیشہ اپنے آئین کے مطابق عمل کرے گا اور ہمیں پورا یقین ہے کہ امریکہ سمیت ہمارے تمام اتحادی  اپنے مضبوط فیصلوں کے مطابق عمل کریں گے۔'

زیلنسکی کی پوسٹ میں کریمیا ڈیکلریشن کی ایک تصویر بھی شامل تھی، جو 2018 میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے جاری کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ 2014 میں روس کے کریمیا الحاق کو مسترد کرتا ہے اور 'یوکرین کی علاقائی سالمیت کی بحالی تک اس پالیسی کو برقرار رکھنے کا عہد کرتا ہے۔'

لندن میں مذاکرات

زیلنسکی نے بدھ کے روز لندن میں امن مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا  ہےکہ فرانس اور برطانیہ کی کوششوں سے کیف کو امید ہے کہ اس مشترکہ کام سے ان کے ملک میں 'پائیدار امن' قائم ہوگا۔

انہوں نے کہا ہے کہ "آج جذبات عروج پر ہیں کیونکہ   فوری قیام امن کے لئے   پانچ ممالک یعنی یوکرین، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا مذاکراتی میز پر آنانہایتخوش آئند ہے"۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "فریقین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کے مؤقف کو احترام کے ساتھ سنا۔ یہ اہم ہے کہ ہر فریق نہ صرف ایک شریک تھا بلکہ اس نے بات چیت میں  بامعنی حصہ بھی لیا"۔

یوکرین کے وزیر اعظم ڈینیس شمیہال نے بھی بدھ کے روز کہا  ہےکہ کیف امریکہ کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کے اختتام کی حمایت کرتا ہے، اور یوکرین کی تعمیر نو کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ کے قیام پر 'تکنیکی' مذاکرات مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکہ کےوزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ 'میں نے زور دیا ہے کہ یوکرین حکومت اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کے اختتام اور تعمیر نو کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی حمایت کرتی ہے۔

دریافت کیجیے
روس، سلوواکیہ کو توانائی فراہم کرنے کی 'ہر ممکن' کوشش کرے گا: پوتن
اسرائیل نے عراق میں ایک خفیہ فوجی اڈّہ بنا لیا
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
باکستان: کار بم دھماکہ اور فائرنگ، بارہ پولیس اہلکار ہلاک
چین: جاپان، انڈو-پیسیفک کو بطور پردہ استعمال کر رہا ہے
پوتن: روسی افواج نیٹو کی طرف سے مسلح اور حمایت کردہ ایک حملہ آور طاقت سے نبرد آزما ہے
ترکیہ عالمی دفاعی طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے، صدر ایردوان
اسرائیل نے غزہ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس دوران 9 افراد زخمی ہو گئے
سعودی عرب کی فوجی آپریشنز میں اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کی تردید
امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے : ایران کا دعوی
انڈونیشیا"آتش فشاں پھوٹ پڑا،3 افراد ہلاک
دائمی جنگ بندی کےلیے امریکہ-ایران تعمیری قدم اٹھائیں:ترکیہ
اسرائیل کی توسیعی پالیسیاں علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، صدر ایردوان
"اسپین کا اسرائیل سے احتجاج" اسرائیلی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرلیا
یورپی یونین۔امریکہ تجارتی معاہدے کے قواعد و ضوابط پر اتفاق