غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
اسرائیل کا 'ای 1' منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو تقسیم کر کے اس کی جغرافیائی سالمیت کو نقصان پہنچائے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر دے گا: فلسطین وزارت خارجہ
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
دنیا بھر کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کو تقسیم کر کے، یہ منصوبہ دو ریاستی حل کو ناممکن بنانا چاہتا ہے۔ / AFP Archive

فلسطین وزارت خارجہ نے عالمی کمپنیوں اور اقتصادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ مشرقی القدس میں واقع غیر قانونی E1 آبادکاری منصوبے سے متعلق اسرائیلی تعمیراتی ٹینڈروں  میں حصہ نہ لیں۔

 وزارت خارجہ  نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی شرکت بین الاقوامی قانون کے تحت عائد ذمہ داریوں سے متصادم ہوگی۔کمپنیوں کو غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر حصہ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔

بیان میں  عالمی برادری سے بھی اس منصوبے کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ یہ مؤقف بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہے۔ جیسا کہ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) نے بھی کہا  ہے کہ ریاستوں کو، قابض پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے، ان غیر قانونی حالات کو برقرار رکھنے میں مدد یا معاونت نہیں کرنی چاہیے ۔

وزارت نے خبردار کیا  ہےکہ E1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو تقسیم کرکے اس کی جغرافیائی سالمیت کو نقصان پہنچائے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر دے گا۔

بیان میں ممالک سے مطالبہ کیا گیا  ہےکہ وہ محض سیاسی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری میں توسیع روکنے اور اسے اس منصوبے سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے "عملی اور مؤثر اقدامات" کریں۔

عملی اقدام کا مطالبہ

وزارت نے مزید کہا ہے کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے قبضے اور غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کا خاتمہ اور بین الاقوامی قانون کا احترام ضروری ہے۔ اس نے اسرائیل کے غیر قانونی آبادکاری کے نظام کے خلاف اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

فلسطین کے نائب صدر حسین الشیخ نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی اور کہا ہے کہ E1 کے خلاف عالمی مخالفت کو اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری پالیسیوں کو روکنے اور فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات میں تبدیل ہونا چاہیے۔

جمعرات کی صبح برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، کینیڈا اور ناروے نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کے E1 منصوبے کو آگے بڑھانے کے فیصلے کو "ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔

ان سات ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے سے دستبردار ہو اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری کی توسیع روک دے۔ انہوں نے کمپنیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ E1 سے متعلق تعمیراتی معاہدوں کے لیے بولی نہ دیں۔

منگل کے روز اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں عِیر عَمِیم (Ir Amim)، بِمکوم (Bimkom) اور پیس ناؤ (Peace Now) نے کہا کہ اسرائیل نے منصوبے کے مخالف فریقوں کو اطلاع دیے بغیر 1,234 آبادکاری یونٹس کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا ہے، حالانکہ اس نے پہلے سے اطلاع دینے کا وعدہ کیا تھا۔

E1 منصوبے کے تحت تقریباً 3,400 غیر قانونی آبادکاری یونٹس شامل ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد فلسطینی اراضی پر اسرائیلی تعمیرات کے ذریعے غیر قانونی معالیہ ادومیم بستی کو مقبوضہ مشرقی یروشلم سے جوڑنا ہے۔

دنیا بھر میں متعدد ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے کو تقسیم کرکے دو ریاستی حل کو ناممکن بنانا ہے۔

دریافت کیجیے
ترکیہ نے سویٹزرلینڈ کو پہلی سی ای وی یورپی چیمپئن شپ میں ہرا دیا
9 یورپی ممالک نے ہوائی اڈوں پر شدید رش  کے باعث داخلی اور خارجی چیکنگ کو ملتوی کر دیا
اسرائیلی فلم سازوں کی شہریت منسوخ کروادوں گا:اسرائیلی وزیر
اسرائیلی وزیر دفاع کی جنوبی لبنان کے پہاڑوں کی طرف رخ کرنے والوں کو 'ختم کرنے' کی دھمکی
ایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
اسرائیل نے ڈرون حملہ کر کے دو فلسطینیوں کو قتل اور 13 کو زخمی کر دیا
فلسطین: ہم برکس کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتے ہیں
عراق: ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم کو قبضے میں لے لیا گیا ہے
یوکرین کی طرف سے تاتارستان پر ڈرون حملے
ترکیہ: ہم، سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی مذّمت کرتے ہیں
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ: امریکہ کا فیصلہ انتہائی  افسوسناک ہے
ترکیہ: ہم، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں
فرانس میں ٹرین حادثے کی تحقیقات ممکنہ طور پر سبوتاژ کے طور پر کی جا رہی ہیں
لبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
سعودی عرب: عراق سے تیل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بغداد اس واقع کی تحقیقات کر رہا ہے