برطانیہ کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر باضابطہ پابندی کے اعلان کی تیاریوں کے دوران، اسرائیلی وزراء بیزلیل سموٹریچ اور اتمار بن غفیر نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل برطانیہ پر پابندیاں عائد کرے، اس کے سفیر کو ملک بدر کرے اور جزائر فاکلینڈ پر ارجنٹائن کی خودمختاری کو تسلیم کرے۔
اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں برطانیہ کے سفیر کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ برطانوی سفیر کو آج رات ہی ملک بدر کیا جائے! ہم کسی ایسی یہود مخالف حکومت کے پیروں تلے کچلے جانے والا پائدان نہیں بنیں گے، سرزمینِ اسرائیل پر برطانوی مینڈیٹ اب ختم ہو چکا ہے۔"
دوسری جانب، اسرائیل کے وزیرِ برائے قومی سلامتی اتمار بن غفیر نے بھی 'ایکس' پر ہسپانوی زبان میں ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ جزائر فاکلینڈ پر ارجنٹائن کے دعوے کو تسلیم کر کے جوابی کارروائی کریں۔
انہوں نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاستِ اسرائیل واضح طور پر یہ تسلیم کرے کہ 'مالویناس جزائر' ارجنٹائن کا ایک مقبوضہ علاقہ ہے جسے برطانویوں نے ارجنٹائن کے عوام سے زبردستی چھینا تھا۔"
یہ تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ منگل کے روز اراکینِ پارلیمان سے خطاب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں وہ اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات میں ایک "جامع ردوبدل" کا اعلان کریں گے۔
ان اقدامات کے تحت، عالمی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کے مطابق، مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں سے آنے والے سامان اور مخصوص خدمات بشمول اشتہارات کی تجارت پر برطانیہ کی جانب سے پابندی عائد کی جائے گی۔














