دنیا
3 منٹ پڑھنے
ایرانی حملوں نے امریکی خفیہ نیٹ ورک کو 'غیر معمولی نقصان' پہنچایا ہے
ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے مشرق وسطی میں سی آئی اے سے منسلک مراکز، ریڈار سسٹموں اور نگرانی آلات کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے: این بی سی
ایرانی حملوں نے امریکی خفیہ نیٹ ورک کو 'غیر معمولی نقصان' پہنچایا ہے
ایرانی حملوں سے امریکی انٹیلی جنس تنصیبات کو اربوں کا نقصان پہنچا۔ (تصویر: فائل) / AP

ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی انٹیلی جنس تنصیبات اور انٹیلی جنس آلات کو اربوں ڈالر کا "بے مثال نقصان" پہنچایا ہے۔

این بی سی نیوز نیوز نے معاملے سے واقف چار ذرائع کے حوالے سے جاری کردہ خبر میں کہا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی انٹیلی جنس تنصیبات اور انٹیلی جنس آلات کو اربوں ڈالر کا "بے مثال نقصان" پہنچایا ہے

خبر کے مطابق ان حملوں میں سی آئی اے اور دیگر امریکی انٹیلی جنس اداروں کے زیرِ استعمال عمارتوں، ریڈار نظاموں اور انٹیلی جنس جمع کرنے والے آلات کو نقصان پہنچا ہے۔

 ذرائع کے مطابق تباہی کا حجم اتنا بڑا تھا کہ اسے امریکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے اب تک کا سب سے بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔حملوں میں انٹیلی جنس اداروں اور امریکی فوج کے مشترکہ زیرِ استعمال مختلف تنصیبات اور آلات کو نشانہ بنائے جانےکی وجہ سے امریکی کانگریس نے تعمیرِ نو اور بعض تنصیبات کی دوسری جگہ منتقلی کے لیے خصوصی ہنگامی فنڈ مختص کیا ہے۔

سی آئی اے اسٹیشنوں اور ریڈار نظام نشانے پر

امریکی اور خلیجی حکام کے مطابق، تنازعے کے دوران نشانہ بنائے گئے انٹیلی جنس مقامات میں ریاض میں ایک سی آئی اے اسٹیشن، مشرقی عراق میں ایک تنصیب اور پورے خطے میں موجود حساس ریڈار اور نگرانی کے مراکز شامل ہیں۔

تنازعے کے ابتدائی مرحلے میں ایرانی حملوں نے منظم انداز میں امریکی فضائی دفاع کے ریڈار نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر اور بصری شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردن میں AN/TPY-2 ریڈار نظام اور قطر میں AN/FPS-12 فیزڈ اَرے ریڈار  سمیت  امریکہ کے جدید ریڈار نظاموں کو تباہ کن نقصان پہنچا ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور سعودی عرب میں موجود تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

ذخائر میں کمی

ان حملوں نے امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر پر بھی شدید دباؤ ڈالا۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی جانب سے جولائی میں جاری کی گئی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق  فروری سے جولائی کے درمیان امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے تقریباً 65 فیصد میزائل استعمال کیے گئے اور تھاڈ (THAAD) بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے ذخیرے میں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کم از کم 38 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اگرچہ ایران اور امریکہ نے حملے روکنے کے لیے جون کے وسط میں پاکستان کے زیرِ  ثالثی ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط کیے تھے، تاہم اس کی شرائط اور تزویراتی اہمیت کی حامل 'آبنائے ہرمز' سے بحری آمدورفت کے معاملے پر جاری اختلافات کے باعث اس مفاہمت پر عمل درآمد متاثر ہوا ہے۔

دریافت کیجیے
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
مصر: سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
نیپال۔چین سیلاب کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 1,130 تک پہنچ گئی، تقریباً 4,500 افراد لاپتہ
ترکیہ: دو تجارتی بحری جہازوں کی آپس میں ٹکر، 10افراد لاپتہ
شام: شیبانی۔راسموسین ملاقات
یمن: داعش کے ایک سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
پاکستان میں شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
امریکہ: اٹارنی نے 17 سالہ لڑکی کو قتل کا قصوروار قرار دے دیا
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی