کیف پر ایک بڑے بیلسٹک میزائل حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
اطلاع کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیف میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔ سرکاری علاقے کے قریب ایک رہائشی عمارت دھماکوں کی شدّت سے لرز اٹھی اور درجنوں افراد نے شہر کے مرکز میں واقع ایک میٹرو اسٹیشن میں پناہ لےلی۔
کیف شہری فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تاکاچینکو نے ٹیلیگرام سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "دارالحکومت شدید بیلسٹک میزائل حملے کی زد میں ہے"۔
شہر کے میئر وٹالی کلچکو نے کہا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے پانچ افراد میں سے ایک کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ شیوچینکیوسکی، دنیپرووسکی اور پوڈلسکی کے اضلاع میں آگ بھڑک اٹھی اور رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
یوکرینی حکام اور کیف میں امریکی سفارت خانے نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ دارالحکومت پر ایک بڑے حملے کا خطرہ موجود ہے اور یہ خطرہ خاص طور پر روس کے، مشرقی یوکرین میں روس کے زیرِ قبضہ علاقوں پر، مہلک حملوں کے ذمہ داروں کو 'سزا' دینے کا اعلان کرنے کے بعد بڑھ گیا ہے"۔
ہفتے کے روز یوکرین کے صدر ولودی میر زلنسکی اور امریکہ کے کیف سفارت خانے دونوں نے ایک بڑے روسی فضائی حملے کے خدشے سے خبردار کیا تھا۔
زیلنسکی نے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ "ہمیں ، کیف سمیت یوکرین کے مختلف علاقوں پر مشترکہ حملے کی تیاریوں کے اشارے مل رہے ہیں۔ حملے میں اوریشنک سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں"۔
اوریشنک روس کا ایک ہائپرسونک میزائل سمجھا جاتا ہے جو جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کیف کو ، یوکرینی افواج کے روس کے زیرِ قبضہ مشرقی علاقوں پر ڈرون حملے کے بعد سے اس حملے کی توقع تھی۔ ماسکو کے مطابق اس حملے میں ایک کالج کے ہاسٹل کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
جمعرات کی رات سے جمعہ کی صبح تک جاری رہنے والا یہ ڈرون حملہ حالیہ مہینوں میں یوکرین کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے جس میں مقبوضہ لوہانسک کے علاقے اسٹاروبیلسک میں 42 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
خبروں کے مطابق ہلاک اور لاپتہ ہونے والوں میں اکثریت 2003 سے 2008 کے درمیان پیدائش والی نوجوان خواتین کی تھی ۔
یوکرین نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی اور کہا تھا کہ اس نے محاذِ جنگ سے تقریباً 65 کلومیٹر دور اسٹاروبیلسک کے علاقے میں متعین ایک روسی ڈرون یونٹ کو نشانہ بنایا تھا۔








