انقرہ میں 7 اور 8 جولائی کو منعقد ہونے والا 2026 کا نیٹو سربراہی اجلاس ترکیہ کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کے عکاس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس سربراہی اجلاس کے دوران ترکیہ کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ یورو-اٹلانٹک خطے کے تحفظ کے لیے نیٹو کے عزم پر زور دیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اتحادی ممالک آرٹیکل 5 کے تحت اپنے عہد کی تجدید کریں۔
ترکیہ نے اس اتحاد کے لیے تقریباً 3,000 اہلکاروں کے ساتھ ساتھ مختلف ہتھیار، گاڑیاں اور پلیٹ فارمز فراہم کیے ہیں۔
ترکیہ کو نیٹو کی رکنیت کی طرف راغب کرنے والا بنیادی عنصر سابق سوویت یونین کی جانب سے ترک آبنائے اور مشرقی صوبوں پر دعووں سے پیدا ہونے والے خطرے کو متوازن کرنا تھا۔
کوریائی جنگ کے بعد ترکیہ نے باضابطہ طور پر نیٹو میں شمولیت اختیار کی، اور وہ امریکہ کے بعد زمینی افواج بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا۔
رکنیت کے پروٹوکول پر 17 اکتوبر 1951 کو دستخط کیے گئے تھے، اور ترکیہ باضابطہ طور پر 18 فروری 1952 کو نیٹو کا رکن بنا۔
اتحاد کی دوسری بڑی فوج کے طور پر، ترکیہ نے افغانستان، کوسوو، بوسنیا اور ہرزیگووینا، لیبیا اور عراق میں مشنز کے لیے اپنے تعاون میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔
'ریزولیٹ سپورٹ مشن' کے تحت، ترکیہ نے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے محفوظ آپریشنز کے لیے فریم ورک نیشن (مرکزی ملک) کے طور پر ذمہ داری سنبھالی اور 28 اگست 2021 کو یہ مشن مکمل کیا۔
ترکیہ نے عراقی فوج کی استعداد کار میں اضافے کے لیے 2018 میں 'نیٹو مشن عراق' میں بھی اپنا حصہ ڈالنا شروع کیا، اور سیکیورٹی کی خراب صورتحال کے باعث اس سال مارچ میں واپسی کا عمل شروع ہونے تک تقریباً 40 اہلکاروں کے ساتھ اپنا تعاون برقرار رکھا۔
ترکیہ جاری آپریشنز بشمول کوسوو فورس (KFOR)، آپریشن سی گارڈئین اور اسٹینڈنگ نیول فورسز کے لیے تقریباً 3,000 اہلکاروں کے ساتھ تعاون فراہم کر رہا ہے۔
ترک مسلح افواج نے 2023 میں نیٹو کی 34، 2024 میں 39 اور 2025 میں 50 مشقوں میں حصہ لیا۔
اس سال، ترکیہ نے جرمنی میں منعقدہ نیٹو کی 'اسٹیڈ فاسٹ ڈارٹ'مشق میں حصہ لیا، جس میں 2,000 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ فورس کو تعینات کیا گیا۔
اس مشق کے دوران، ترک بحریہ کے جہاز 'ٹی سی جی اناطولو'سے اڑنے والے 'ٹی بی-3' (TB-3) مسلح ڈرون نے بحیرہ بالٹک کے اوپر ایک مقررہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ فوجی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی بحری جہاز سے اڑائے گئے بغیر پائلٹ کے طیارے (ڈرون) نے لائیو فائر مشق میں حصہ لیا۔
ترکیہ 2023 کے بعد دوسری بار کوسوو فورس (KFOR) کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
نیٹو کے 32 رکن ممالک میں، ترک بحری افواج 'آپریشن سی گارڈیئن' میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والی فوج ہے۔
ترک ہائی ریڈینس میری ٹائم ٹاسک فورس نے 2023 میں نیٹو ریسپانس فورس میری ٹائم کمپونینٹ کمانڈ اور 2024-2025 میں میڈیٹیرینین ٹاسک فورس کمانڈ کی قیادت سنبھالی۔
نیٹو کے اندر ترکیہ کا کردار متحرک "سیکیورٹی پروڈکشن" پر مبنی ہے۔
نیٹو کی دوسری بڑی فوج کے طور پر، 'اسٹیل ڈوم' -)، 'کاعان' اور التائےجیسے منصوبے اتحاد کی تکنیکی برتری کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
ترکیہ نے 2025 میں اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا 2.33 فیصد دفاع کے لیے مختص کیا۔
سال 2028 سے، ترکیہ نیٹو کی 'الائیڈ ری ایکشن فورس'کی قیادت سنبھالے گا۔


















