چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی ایک نیا سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کو پسِ پشت نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق، شی جن پنگ نے یہ بیانات قاہرہ میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات کے دوران دیے۔
شی جن پنگ نے خطے میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نیا سکیورٹی ڈھانچہ قائم کرنے کے سلسلے میں خطے کے ممالک کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کے عوام کو اپنے معاملات خود سنبھالنے چاہئیں اور بیرونی مداخلت کو مسترد کیا جانا چاہیے۔
شی جن پنگ نے چین اور مصر پر زور دیا کہ وہ ”یکطرفہ پسندی اور تسلط پسندی کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنائیں۔“
چینی رہنما نے خطے میں مشترکہ سکیورٹی کے لیے ایک جامع حل کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا بنیادی مرکز ہے اور اسے کبھی بھی نظر انداز یا حاشیے پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔“
مزید برآں، شی جن پنگ نے خطے میں اقوام متحدہ کے ”موثر کردار“ کی حمایت کا اعادہ کیا اور بیرونی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں دوہرے معیار کو ترک کریں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں کی سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ منگل کے روز دو روزہ دورے پر قاہرہ پہنچے تھے۔
یہ پچھلے 10 سالوں میں ان کا مصر کا پہلا دورہ ہے۔
چینی صدر اورالسیسی نے قاہرہ کے الاتحادیہ محل میں ہونے والی ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
شی جن پنگ نے چین اور مصر پر زور دیا کہ وہ سبز توانائی ،الیکٹرک گاڑیاں، ہوا بازی اور خلائی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے نئے سنگِ میل قائم کریں۔
مصر 1956 میں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا عرب اور افریقی ملک تھا۔
دونوں ممالک نے 1999 میں اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی تھی اور دسمبر 2014 میں اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے درجے تک بڑھا دیا تھا۔















