جمعہ کو ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہےکہ شمال مغربی پاکستان میں ایک پولیس چوکی پر دہشت گردانہ حملے میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے جن میں بارہ فوجی اہلکار، دو پولیس اہلکار اور ایک سابق محکمہ جنگلات کا افسر شامل ہیں۔
پاک فوج کی میڈیا و عوامی رابطہ شاخ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ جمعرات کی رات خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ہوا، جو افغانستان سے متصل ہے، حملہ آوروں نے پولیس چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار پر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی دے ماری۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور 'بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج' سے منسلک تھے، یہ وہ اصطلاح ہے جو اسلام آباد دہشت گرد گروہ تحریکِ طالبانِ پاکستان کی جانب اشارہ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
بھارت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، جس نے ماضی میں اس الزام کی تردید کی ہے۔
بیان کے مطابق حملے کے دوران بارہ حملہ آور ہلاک ہو گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 'علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دیگر بھارتی سرپرستی یافتہ خارِجی کو ختم کرنے کے لیے صفائی آپریشن جاری ہے'۔


















