دنیا
3 منٹ پڑھنے
پاکستان نے بھارت کے ساتھ تنازع کے درمیان دوسرے میزائل کی آزمائش کے ساتھ فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا
"یہ تجربہ فوجی دستوں کی عملی تیاری کو یقینی بنانے اور میزائل کے جدید نیویگیشن سسٹم اور بہتر نشانے کی درستگی سمیت اہم تکنیکی پہلوؤں کی تصدیق کے لیے کیا گیا۔"
پاکستان نے بھارت کے ساتھ تنازع کے درمیان دوسرے میزائل کی آزمائش کے ساتھ فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا
International pressure mounts for de-escalation between the nuclear armed Pakistan and India. / AFP

پاک فوج نے  اعلان کیا  ہےکہ اس نے 120 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل  کی کامیابی سے آزمائش کی  ہے۔ یہ دو دنوں میں دوسرا تجربہ ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ متنازعہ کشمیر کے معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

نئی دہلی نے گزشتہ ماہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والےدہشت گرد حملے  کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں  کے  مالک ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک نیا تنازعہ پیدا ہوا ہے۔

فوج نے اپنے بیان میں کہا، "یہ تجربہ فوجی دستوں کی عملی تیاری کو یقینی بنانے اور میزائل کے جدید نیویگیشن سسٹم اور بہتر نشانے کی درستگی سمیت اہم تکنیکی پہلوؤں کی تصدیق کے لیے کیا گیا۔"

ہفتے کے روز فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے 450 کلومیٹر تک مار کرنے والے زمین سے زمین تک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

فوج نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تجربات کہاں کیے گئے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ فوج کی "قومی دفاع کے لیے مکمل تیاری" سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "کامیاب تربیتی تجربہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔"

ممکنہ حملہ

یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی فوج کو "مکمل عملی آزادی" دے دی ہے کہ وہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے کا جواب دے۔

پاکستان نے کسی بھی مداخلت سے انکار کیا ہے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد نے گزشتہ ہفتے اپنے ہمسایہ ملک کی جانب سے ممکنہ فضائی حملے کی وارننگ دی تھی اور بارہا واضح کیا ہے کہ وہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کا طاقت سے جواب دے گا۔

دونوں ممالک پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ یہ  کشیدگی  میں گراوٹ لائیں۔ دونوں ممالک نے متنازعہ کشمیر کے مسئلے پر کئی جنگیں لڑی ہیں۔

بھارتی دفاعی ذرائع کے مطابق، دونوں جانب سے گزشتہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے لائن آف کنٹرول  پر رات کے وقت فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

شہباز شریف کا ملائیشیا کا دورہ ملتوی

مسلم اکثریتی کشمیر، جو تقریباً 15 ملین افراد پر مشتمل ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہے لیکن دونوں ممالک اس پر مکمل دعویٰ کرتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں، ہنگامی مشقیں کھیل کے میدانوں میں کی جا رہی ہیں، رہائشیوں کو خوراک اور ادویات کا ذخیرہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور مذہبی مدارس بند کر دیے گئے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں، مسلح افراد کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ سرحد کے قریب رہنے والے لوگ مزید دور جا رہے ہیں یا ممکنہ تنازعے کے خوف سے بنکرز صاف کر رہے ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے پیر کے روز کہا کہ شہباز شریف نے جمعہ کو طے شدہ اپنے سرکاری دورے کو کشیدگی کے باعث ملتوی کر دیا ہے۔

شہباز شریف کے دفتر نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اتوار کی رات بات چیت کی اور انہوں نے کہا کہ وہ اس سال کے آخر میں ملائیشیا کے سرکاری دورے کے منتظر ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی  نے پیر کے اسلام آباد کاسرکاری دورہ کیا۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پیر کے روز آزاد کشمیر کے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا، "پاکستان دوست ممالک کے سامنے اپنا موقف پیش کر رہا ہے۔"

 

دریافت کیجیے
27 ممالک بحرانی فنڈز تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں، رپورٹ
پاکستانی وزیر اعظم اسٹریٹیجک تعلقات کو مضبوطی دلانے کی غرض سے  چین کے دورے پر
روس کے زیر کنٹرول لوہانسک میں کالج اور ہاسٹل پر یوکرین کے حملے میں چار افراد ہلاک اور 35 زخمی: روس
ایتھنو اسپورٹس  فیسٹیول استنبول میں شروع ہو گیا
پاکستانی وزیر داخلہ کے امریکہ-ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر تہران میں تازہ مذاکرات
نیٹو کے روٹے کا کہنا ہے کہ اتحاد مضبوط راہ پر ہے، ایک اتحادی پر زیادہ انحصار نہیں کرتا
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملہ،4 افراد ہلاک
امریکہ  نے تائیوان کے لیے 14 بلین ڈالر کے اسلحے کی فروخت روک دی
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں
پاکستان نے کوششیں تیز کر دیں
ترکیہ: اردوعان۔ادریس ملاقات
امریکی کانگریس میں ایک منٹ کی خاموشی
حزب اللہ کے 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوجی قوتوں پر 24 حملے
مسلّح تنازعات میں شہریوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے: ترکیہ
امریکہ نے فرانسیسکا البانیس کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا