نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کا کہنا ہے کہ، "ترکیہ اتحاد کی سب سے مضبوط فوجوں میں سے ایک ہے۔ انتہائی بہتر سازوسامان سے لیس اور تربیت یافتہ ہے اور ایک وسیع دفاعی صنعت کا مالک ہے۔"
مارک روٹے نے 7-8 جولائی کو منعقد ہونے والے انقرہ سربراہی اجلاس سے قبل، برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز میں اے اے کے صحافی کے سوالات کے جواب دیے؛ جن میں اجلاس سے توقعات، اتحاد کے سامنے بنیادی آزمائشیں اور ترکیہ کے نیٹو میں کردار شامل تھے۔
انٹرویو کے بعض حصے یوں ہیں:
سوال: محترم سیکریٹری جنرل ، انقرہ سربراہی اجلاس سے ہمیں کن ٹھوس فیصلوں کی توقع رکھنی چاہیے؟ آپ کے خیال میں اجلاس کے کیا نتائج ہوں گے؟
مارک روٹے: مجھے امید ہے کہ مستقبل میں جب لوگ انقرہ اجلاس کی طرف دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ وہ اجلاس تھا جہاں کیے گئے وعدے عمل میں لائے گئے۔ ہم نے ہیگ میں جو وعدے کیے تھے انقرہ کا اجلاس نفاذ کا اجلاس ہونا چاہیے۔
سوال: ہم "نیٹو 3.0"کی اصطلاح زیادہ سننے لگے ہیں۔ آپ بھی اس کا ذکر کرتے ہیں اور تبدیلی کو ضروری قرار دے رہے ہیں۔ "نیٹو 3.0"کیا ہے؟ اس کا اتحادیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ ایسی تبدیلی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
مارک روٹے: "نیٹو 3.0" اس ڈھانچے کی نمائندگی کرتا ہے جو امریکہ پر حد سے زیادہ منحصر "نیٹو 2.0" سے مختلف ہے۔ امریکہ اپنی روایتی فوجی صلاحیت اور جوہری روک تھام کے ذریعے یورپ میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔ تاہم آئندہ مرحلے میں ہم ایک ایسا نیٹو دیکھیں گے جس میں یورپ زیادہ ذمہ داری اٹھائے گا۔
یہ ضرورت یوکرین کے روس کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی ہے۔ ہم روس کے بڑے پیمانے پر فوجی اجتماع کے مقابلے میں غیرجانبدار نہیں رہ سکتے۔ یہ صورت حال صرف یوکرین کے تناظر میں نہیں، عمومی طور پر بھی درست ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ نیٹو ممکنہ حد تک مضبوط رہے تو ہمیں یہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
یہ سب اس بات کا مطلب ہے کہ نیٹو میں بوجھ کی تقسیم زیادہ منصفانہ ہوگی، جس سے وہ کہیں زیادہ مضبوط بنے گا، روس کے خلاف اپنی روکتی قوت میں اضافہ کرے گا اور چین کے معاملے میں بھی یکطرفہ رویہ اختیار نہیں کرے گا۔
ترکیہ نیٹو کے لحاظ سے انتہائی اہم ملک
سوال: میزبان ملک ترکیہ کی اتحاد میں شراکت کو آپ کس طرح جانچتے ہیں؟ ترکیہ کی دفاعی صنعت نیٹو کی اجتماعی حفاظت کے لیے کتنی اہم ہے؟ نیٹو ترکیہ کے سکیورٹی خدشات کو بہتر طور پر مدنظر رکھنے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟
مارک روٹے: ترکیہ نیٹو کے لیے انتہائی اہم ملک ہے۔ اگرچہ یہ بانی اراکین میں شامل نہیں تھا، مگر اتحاد کے قیام کے صرف تین سال بعد، 1952 میں نیٹو میں شامل ہوا۔ لہٰذا تقریباً ابتدا سے ہی اتحاد کا حصہ رہا ہے۔ آج بھی اس کے پاس نیٹو کی سب سے مضبوط فوجوں میں سے ایک ہے۔ ترک مسلح افواج انتہائی اچھی طرح لیس اور اچھی تربیت یافتہ ہیں۔
اس کے علاوہ، تقریباً تین ہزار کمپنیوں پر مشتمل ایک وسیع دفاعی صنعت کا انفراسٹرکچر ہونا بھی ایک اہم فائدہ ہے۔ بڑی، درمیانی اور چھوٹی سطح کی یہ کمپنیاں جدت کو اہمیت دیتی ہیں؛ وہ جدید ترین ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہیں اور مثلاً یوکرین کی جنگ سے حاصل شدہ میدانِ عمل کے اسباق کو دفاعی صنعت کی پیداوار میں منتقل کرتی ہیں۔ یہی چیز ترکیہ کی دفاعی صنعت کو بہت طاقتور بناتی ہے۔
اسی وجہ سے ہم 7 جولائی کو انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران دفاعی صنعت فورم منعقد کرنے کے لیے پُراعتماد تھے۔ ہمارا مقصد صرف ترکیہ کی نہیں بلکہ نیٹو کی مجموعی دفاعی صنعت کی صلاحیتوں کو سامنے لانا بھی تھا۔ تاہم ایسے فورم کی میزبانی کے لیے ترکیہ کا انتخاب انتہائی مناسب فیصلہ ہے۔
میں نے اسیل سان کا (اپریل میں) دورہ کیا۔ اس کمپنی کو قریب سے دیکھنا واقعی متاثر کن تھا۔ ساتھ ہی ایسل سان کے ترکیہ کی متعدد کمپنیوں کے ساتھ کس طرح تعاون میں کام کرنے اور ترک دفاعی صنعت کے یورپ کے مختلف حصوں اور امریکی کمپنیوں کے ساتھ کس طرح شراکتیں قائم کرنے کو دیکھنا بھی بہت متاثر کن تھا۔ ترکیہ کا امریکہ میں سرمایہ کاری کرنا اور امریکی و یورپی کمپنیوں کا ترکیہ میں سرمایہ کاری کرنا مضبوط تعاون کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے کیونکہ یہی ہماری مزاحمتی طاقت کی بنیاد ہے۔










