ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار علی لاریجانی نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی قید کر لیے گئے ہیں اور واشنگٹن پر واقعہ چھپانے کا الزام لگایا۔
لاریجانی نے ہفتے کو ایکس پر لکھا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ چند امریکی فوجی قید کر لیے گئے ہیں۔ لیکن امریکی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ لڑائی میں مارے گئے ہیں
ان کی ناکام کوششوں کے باوجود سچ ایسی چیز نہیں جسے وہ زیادہ دیر چھپا سکیں۔
امریکی فوج نے فوراً اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ کوئی امریکی فوجی گرفتار نہیں کیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ایک ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران کے دعوے غلط ہیں۔
اس ترجمان نے الجزیرہ سے کہا امریکی فوجیوں کو گرفتار کرنے کے ایرانی دعوے ان کے جھوٹ اور فریب کی ایک ا ور مثال ہیں ۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ اس کے بعد ہوا جب 28 فروری کو ایران پر امریکی-اسرائیلی مشترکہ فضائی حملے کیے گئے، جن میں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں رہبرِ اعلی علی خامنہ ای، 150 سے زائد اسکول کی طالبات اور سینئر فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔
اس جنگ نے وسیع پیمانے پر علاقائی عدم استحکام کو جنم دیا اور تہران کی طرف سے خطے بھر میں امریکی سے منسلک مقامات پر جوابی حملے کیے گئے۔








