دنیا بھر سے 18 لاکھ عازمینِ حج،مناسکِ حج کی ادائیگی کے لئے منگل کے روز مغربی سعودی عرب میں واقع میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق منظور شدہ منصوبوں کے تحت، حجاج کے قافلوں کی رہنمائی کے لئے راستوں اور پیدل گزرگاہوں پر سکیورٹی اہلکاروں کو متعین کیا گیا ہے۔
ایجنسی نے کہا ہے کہ منیٰ سے عرفات جانے والے حجاج کی آمدورفت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ حجاجِ کرام عرفات کی مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر اور جمع کرکے ادا کریں گے۔
غروبِ آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنے کے بعد صبح تک قیام کریں گے اور اگلے دن روانہ ہوں گے۔
مناسکِ حج پیر کے روز باضابطہ طور پر شروع ہوئے اور حجاج مغربی سعودی عرب میں واقع منیٰ پہنچ گئے۔ منٰی میں عبادات کے لئے آسانی پیدا کرنے کی خاطر جامع خدمات اور حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔
چھ روزہ حج کے دوران عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، رمیِ جمرات (علامتی طور پر شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم) اور مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے اندر خانۂ کعبہ کا طوافِ وداع شامل ہے۔
یہ مناسک اسلام کے بنیادی تصورات کی علامت ہیں اور حضرت ابراہیمؑ اور ان کے اہلِ خانہ کی آزمائشوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
سعودی حکام نے 2026 کے حج سیزن کے لیے انتظامی اور حفاظتی اقدامات میں مزید توسیع کی ہے۔ حجاج کی نقل و حرکت کو منظم کرنے اور مقدس مقامات میں غیر مجاز داخلے کو روکنے کے لئے جدید نگرانی ٹیکنالوجی اور ہجوم پر نظر رکھنے والے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔







