امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر کے درخواست دہندگان کے لیے ویزا اپوائنمنٹس روک دیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے منگل کو کہا کہ اس نے دنیا بھر میں تمام امریکی سفارت خانوں اور قونصلیٹوں میں ایک عالمی تربیتی مہم شروع کی ہے اور ویزا خدمات کی تقرری اسی تربیت کے مطابق ترتیب دی جائیگی۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔
ویزا پابندی کو کچھ قانونی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ایک امریکی جج نے جمعہ کو ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا جو 75 ممالک کے درخواست دہندگان کو امیگرنٹ ویزے جاری کرنے کو معطل کرتی تھی، اور کہا کہ یہ پالیسی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔
محکمہ خارجہ نے تربیت کی تفصیلات یا اس کے شیڈول کی وضاحت نہیں کی، سوائے اس بات کے کہ یہ تربیت قونصلیئر افسران کی مدد کرے گی تاکہ وہ ایسے درخواست دہندگان کو خارج کر سکیں جو ممکنہ طور پر امریکی عوامی فوائد پر منحصر ہو جانے کا خدشہ رکھتے ہیں، اور ویزا درخواست دہندگان کے جائزے کو ‘جامع اور یکساں’ طور پر یقینی بنایا جا سکے۔
مزید خوشحال امریکہ
ویزا اپوائنمنٹس پر یہ معطلی سب سے پہلے منگل کو فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کی، جس نے کہا کہ امریکی سفارت خانوں اور قونصلیٹوں میں طے شدہ انٹرویوز کے حامل امیگرنٹ ویزا کے درخواست دہندگان کو ای میلز موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ان کی اپائنٹمنٹس دوبارہ شیڈول کی جا رہی ہیں اور انہیں نئی تاریخ کے بارے میں مزید مطلع کیا جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے فنانشل ٹائمز کو بتایا: ‘ایک مزید خوشحال امریکہ کا مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ ویزا درخواست دہندگان وہ افراد نہ ہوں جو امریکی قانون و ضوابط کے تحت ’پبلک چارج‘ قرار دیے جائیں، اورممکنہ طور پر ایسے امریکی عوامی فوائد پر منحصر نہ ہوں جو مستحق امریکیوں کے لیے مخصوص ہیں۔’
انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی امیگریشن اقدامات کی وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے اور انہیں امتیازی قرار دیا ہے، نیز کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار اور مناسب قانونی عمل کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
حقوقِ انسانی کی تنظیمیں یہ بھی کہتی ہیں کہ یہ پابندیاں امریکہ میں ایک غیرمحفوظ ماحول پیدا کر چکی ہیں، خاص طور پر نسلی اقلیتوں کے لیے جنہوں نے نسلی پروفائلنگ کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔

















