سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ انتظامیہ نےامیگرینٹ ویزا درخواستوں کو عارضی طور پر منجمد کر دیا - رپورٹ
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی سطح پر سفارتی عملے کے لیے ایک تربیتی پروگرام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ویزا کی تقرریوں میں ترمیم کرے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ نےامیگرینٹ ویزا درخواستوں کو عارضی طور پر منجمد کر دیا - رپورٹ
اطلاعات کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ چاہتا ہے کہ قونصلر افسران ایسے افراد کی چھانٹی کریں جن کے سرکاری مراعات کے محتاج ہونے کا امکان ہو۔ / AP Archive

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر کے درخواست دہندگان کے لیے ویزا اپوائنمنٹس روک دیے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے منگل کو کہا کہ اس نے دنیا بھر میں تمام امریکی سفارت خانوں اور قونصلیٹوں میں ایک عالمی تربیتی مہم شروع کی ہے اور ویزا خدمات کی تقرری اسی تربیت کے مطابق ترتیب  دی جائیگی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔

ویزا پابندی کو کچھ قانونی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ایک امریکی جج نے جمعہ کو ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا جو 75 ممالک کے درخواست دہندگان کو امیگرنٹ ویزے جاری کرنے کو معطل کرتی تھی، اور کہا کہ یہ پالیسی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔

محکمہ خارجہ نے تربیت کی تفصیلات یا اس کے شیڈول کی وضاحت نہیں کی، سوائے اس بات کے کہ یہ تربیت قونصلیئر افسران کی مدد کرے گی تاکہ وہ ایسے درخواست دہندگان کو خارج کر سکیں جو ممکنہ طور پر  امریکی عوامی فوائد پر منحصر ہو جانے کا خدشہ رکھتے ہیں، اور ویزا درخواست دہندگان کے جائزے کو ‘جامع اور یکساں’ طور پر یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خوشحال امریکہ

ویزا اپوائنمنٹس پر یہ معطلی سب سے پہلے منگل کو فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کی، جس نے کہا کہ امریکی سفارت خانوں اور قونصلیٹوں میں طے شدہ انٹرویوز کے حامل  امیگرنٹ ویزا کے درخواست دہندگان کو ای میلز موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ان کی اپائنٹمنٹس دوبارہ شیڈول کی جا رہی ہیں اور انہیں نئی تاریخ کے بارے میں مزید مطلع کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے فنانشل ٹائمز کو بتایا: ‘ایک مزید خوشحال امریکہ کا مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ ویزا درخواست دہندگان وہ افراد نہ ہوں جو امریکی قانون و ضوابط کے تحت ’پبلک چارج‘ قرار دیے جائیں، اورممکنہ طور پر  ایسے امریکی عوامی فوائد پر منحصر نہ ہوں جو مستحق امریکیوں کے لیے مخصوص ہیں۔’

انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی امیگریشن اقدامات کی وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے اور انہیں امتیازی قرار دیا ہے، نیز کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار اور مناسب قانونی عمل کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

حقوقِ انسانی کی تنظیمیں یہ بھی کہتی ہیں کہ یہ پابندیاں امریکہ میں ایک غیرمحفوظ ماحول پیدا کر چکی ہیں، خاص طور پر نسلی اقلیتوں کے لیے جنہوں نے نسلی پروفائلنگ کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
امریکہ: ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی