فلسطین سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘وافا' کے مطابق درجنوں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے اسرائیلی فورسز کی حفاظت میں مقبوضہ مشرقی القدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بول دیا۔
وافا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ غیر قانونی آبادکار جمعرات کی صبح اسرائیلی سکیورٹی کی نگرانی میں مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے اور صحنوں میں کھلے عام تلمودی مذہبی رسومات ادا کیں۔
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہودی اس علاقے کو "ٹیمپل ماؤنٹ" کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قدیم زمانے میں یہاں دو یہودی عبادت گاہیں موجود تھیں۔
اسرائیلی پولیس 2003 سے، جمعہ اور ہفتہ خارج، ہفتے کے دیگر دنوں میں غیر قانونی آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دیتی چلی آ رہی ہے۔
فلسطین وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے مطابق اپریل کے دوران غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد پر 30 مرتبہ دھاوا بولا۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ، بشمول مسجد اقصیٰ، مقبوضہ مشرقی القدس کو یہودی رنگ دینے اور شہر کی فلسطینی و اسلامی شناخت کو مٹانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔
واضح رہے کہ فلسطینی، 1967 کے اسرائیلی قبضے اور 1980 کے غیر قانونی الحاق کو تسلیم نہ کرنے والی بین الاقوامی قراردادوں کے حوالےسے، مشرقی القدس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔










