دنیا
3 منٹ پڑھنے
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جوہری ہتھیاروں کی غیر انسانی تباہ کاری کو غیر اہم سمجھنا اور اپنے مفاد کی خاطر  طاقت کے ناجائز استعمال سے پرہیز نہ کرنا بالآخر انتقام کے ایک بے رحم سلسلے کو جنم دے سکتا ہے: ماتسوئی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
ہیروشیما پر ایٹمی بمباری کی 81 ویں برسی سے قبل، 5 اگست 2026 کو اٹامک بم ڈوم کے قریب موتویاسو ندی کے کنارے یادگاری الاؤ روشن کیے گئے ہیں۔ / Reuters

جاپان میں امریکہ کے جوہری حملے کی 81 ویں برسی منائی گئی۔

جاپان کے مغربی شہر ہیروشیما میں جمعرات کے روز امریکہ کے جوہری حملے کی 81 ویں سالانہ یاد کے موقع پر شہر کے میئر 'کازومی ماتسوئی' نے بڑی طاقتوں کی جنگی اشتعال انگیزی پر تنقید کی اور ان سے، جوہری ہتھیاروں کو دفاعی مزاحمت کے ایک جائز ذریعہ کے طور پر پیش کرنے سے، باز آنے کی اپیل کی ہے۔

ہیروشیما پیس میموریل پارک میں منعقدہ تقریب کے دوران امن کا پیغام پڑھتے ہوئے میئر کازومی ماتسوئی نے کہا ہے کہ"جوہری ہتھیاروں کی غیر انسانی تباہ کاری کو غیر اہم سمجھنا اور اپنے مفاد کی خاطر  طاقت کے ناجائز استعمال سے پرہیز نہ کرنا بالآخر انتقام کے ایک بے رحم سلسلے کو جنم دے سکتا ہے، جس کا نتیجہ ہیروشیما یا ناگاساکی سے مشابہہ ایک اور  سانحے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔"

ماتسوئی نے زور دیا ہے کہ متعدد سیاسی رہنما اب بھی جوہری مزاحمت کو ایک حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی سمجھتے ہیں اور اس کے ذریعے تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ"جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کا خواب ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دبعید از قیاس ہوتا جا رہا ہے۔" انہوں نے سب پر زور دیا کہ ماضی سے سبق سیکھیں اور عملی اقدامات کریں۔

تقریب اور شرکت

تقریب میں امریکہ اور ایران سمیت تقریباً 120 ممالک اور خطوں کے نمائندوں نکے ساتھ ساتھ لگ بھگ 50 ہزار افراد نے شرکت کی ۔

تقریب میں صبح 8 بج کر 15 منٹ پر عین اُس وقت جب  امریکی بی-29 بمبار طیارے نے 6 اگست 1945 کو شہر پر ایٹم بم گرایا تھاامن کی گھنٹی بجائی گئی اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے  بحیثیت وزیرِ اعظم پہلی مرتبہ یادگاری تقریب میں شرکت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ ان  کی حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے، کہ دنیا میں دوبارہ کبھی جوہری ہتھیار استعمال نہ ہوں، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے 'این پی ٹی' کے دائرۂ کار میں "حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی" اختیار کرے گی۔

اس سال کی تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب تاکائیچی کی نسبتاً سخت گیر حکومت کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ رواں سال نئے قومی سلامتی اور دفاعی دستاویزات کی تیاری کے دوران جاپان کے جنگِ عظیم دوم کے بعد سے قائم تین غیر جوہری اصولوں میں نرمی لا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ تاکائیچی خود بھی جوہری مزاحمتی طاقت  کے تصور کی حمایت کرتی رہی ہیں۔

تاریخی پس منظر اور زندہ بچ جانے والے افراد

6 اگست 1945 کو ہیروشیما پر کیے گئے ایٹمی حملے نے شہر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا اور تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تین روز بعد ناگاساکی پر گرائے گئے دوسرے ایٹم بم سے مزید تقریباً ستر ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

15 اگست 1945 کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے، جس کے ساتھ ہی دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

ایٹمی حملے سے زندہ بچ جانے والوں کی تعداد اب ابتدائی تعداد کے تقریباً ایک چوتھائی رہ گئی ہے۔  اس وقت حملے سے زندہ بچنے والے افراد کی تعداد  91,105 ہے اور  ان کی اوسط عمر 86 برس سے تجاوز کر چکی ہے۔ بچ جانے والے کم عمر ترین افراد بھی حملے کے وقت اتنے چھوٹے تھے کہ انہیں وہ واقعات واضح طور پر یاد نہیں ہیں جس کے باعث اس سانحے کی یادوں کے وقت کے ساتھ مٹ جانے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

دریافت کیجیے
گوئٹے مالا: فیوگو آتش فشاں میں دھماکے
روسی علاقوں پر یوکرینی ڈراونز کی بارش، ماسکو پر حملے میں پانچ افراد ہلاک
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
امریکہ: 65,000 سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نکال گئے
شمالی کوریا: امریکہ اور اس کے اتحادی ایشیا-پیسیفک میں 'نئے سیکیورٹی بحران' کو ہوا دے رہے ہیں
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
آسٹریلیا: ایچ فائیو برڈ فلو کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پرندے ہلاک
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
یوکرین اور روس کے مابین حملوں میں شدت آگئی،متعدد ہلاکتیں
مصر میں  5.3 شدت کا زلزلہ،عوام میں خوف و ہراس
گیس پروم: یورپی گیس ذخائر میں کمی، ترسیل کے عمل کو خطرات س دو چار کر رہی ہے
ترکیہ وزارت خارجہ: نیتن یاہو کا مقصد علاقے میں امن و استحکام قائم کرنے میں رکاوٹ ڈالنا ہے
امید ہے معاہدہ طے پا جائے گا: ٹرمپ