صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بروز جمعرات وائٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کامیابیوں کا ذکر کیا اور اسمبلی ممبران سے کہا ہے کہ امریکہ اپنی بین الاقوامی حیثیت دوبارہ حاصل کر چُکا ہے اور اس نے کئی عالمی بحران حل کرنےمیں مدد کی ہے۔
اسمبلی اور سینٹ اراکین اور دوہری پارٹیوں والے ممبران کی شرکت سے منعقدہ ،کانگریس کے روایتی سالانہ تفریحی، اجلاس سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ یورپی رہنماوں کے، واشنگٹن سے قیادت کے، مطالبے بتدریج زور پکڑ رہے ہیں۔ یورپی ممالک کہتے ہیں کہ امریکہ کے صدر اتنے قابل ہیں کہ انہیں یورپی ممالک کا بھی رہنما سمجھا جا سکتا ہے"۔
یورپی سربراہان کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا ہے کہ "وہ ہماری بات سنتے ہیں اور ان کی نگاہ میں ہمارے لئے ایسا احترام ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا"۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہےکہ "امریکہ نے آٹھ جنگوں کا معاملہ حل کیا ہے۔ہمیں، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تناؤ کے حل میں بھی سفارتی مداخلت کرنا پڑ سکتی ہے۔ہم،کچھ ٹیلی فونک مذاکرات کریں گے تاکہ اس معاملے کو دوبارہ درست راستے پر لایا جا سکے"۔
صدر ٹرمپ نے بعض ممالک کے امریکہ سے فائدہ اٹھانے کا حوالہ دیا اور کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کا مقصد دنیا بھر میں مضبوط تعلقات برقرار رکھنا ہے ۔بہت سے ممالک سالوں تک ہمیں لوٹتے رہے ہیں تاہم ہم جتنے زیادہ ممالک کے ساتھ ممکن ہو اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں"۔
















