آذربائیجان نے اسرائیلی حکومت کے نام نہاد "آرمینی نسل کشی" کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر تنقید کی اور اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آذربائیجان وزارتِ خارجہ کے آج بروز پیر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہےکہ "ہمیں، 1915 کے واقعات سے متعلق تاریخی حقائق کو مسخ کرنے والے اس فیصلے پر 'شدید تشویش' ہے"۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ"1915 کے واقعات سے متعلق تاریخی حقائق کو مسخ کرنا اور پیچیدہ تاریخی عمل کو قانونی اور علمی بنیادوں سے ہٹ کر سیاسی فیصلوں کا موضوع بنانا ناقابلِ قبول ہے۔"
وزارت نے زور دیا ہےکہ اس نوعیت کے فیصلے مفاہمت یا باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ نہیں دیتے، بلکہ موجودہ اختلافات کو مزید گہرا کرتے ہیں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
بیان میں اسرائیلی حکومت سے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی اپیل کی گئی اور کہا گیا ہے کہ باکو تاریخی حقائق، بین الاقوامی قانون کے احترام، اور جنوبی قفقاز میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ "آذربائیجان تاریخی حقائق کے دفاع، بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے احترام، اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے حوالے سے اپنے مستقل مؤقف پر قائم رہے گا۔"









