ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
حجاز ریلوے کا منصوبہ جلد ہی شروع کیا جائے گا:اورال اولو
ترکیہ کے وزیر برائے  مواصلات نے بتایا کہ ترکیہ تاریخی حجاز ریلوے کو جدید بنانے اور اسے عمان تک وسعت دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر ایک عالمی تجارتی راستہ قائم کیا جا سکے
حجاز ریلوے کا منصوبہ جلد ہی شروع کیا جائے گا:اورال اولو
عبدالقادر اورال اوغلو / AA

ترکیہ کے وزیر برائے  مواصلات نے بتایا کہ ترکیہ تاریخی حجاز ریلوے کو جدید بنانے اور اسے عمان تک وسعت دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر ایک عالمی تجارتی راستہ قائم کیا جا سکے۔

انا طولیہ  ایڈیٹر ڈیسک پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالقادر اوُرال اولو نے کہا کہ ملک کا مقصد اس تاریخی لائن کو سیاحت اور جدید ٹرانزٹ دونوں کے لیے دوبارہ بحال کرنا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ابتدائی مرحلے میں ترکیہ کو حلب سے جوڑا جائے گا، جس کے لیے موجودہ حلب-دمشق-اردن نیٹ ورک کا استعمال کیا جائے گا، جبکہ اس دوران سعودی حکام کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حتمی ہدف اس ریلوے لائن کو سلطنت  عمُان تک بڑھانا ہے تاکہ بحرِ ہندتک رسائی حاصل کی جا سکے جو آبنائے ہرمز کا ایک اسٹریٹجک متبادل ثابت ہو گا۔

خلیج بصرہ سے ترک سرحد تک پھیلے ہوئے 1,200 کلومیٹر طویل 'ڈویلپمنٹ روڈ پروجیکٹ' کے حوالے سےاوُرال اولو نے تصدیق کی کہ اس کا نقشے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔

یہ بڑا راہداری منصوبہ جس میں ہائی ویز، ریلوے، توانائی اور مواصلاتی لائنیں شامل ہیں، متحدہ عرب امارات، قطر، عراق اور ترکیہ کی شراکت داری میں بین الاقوامی فنڈنگ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔

وزیر نے بتایا کہ یہ منصوبہ تعمیراتی کام شروع کرنے سے پہلے خطے کے پرامن ماحول کا منتظر ہے۔

مڈل کوریڈور کے ایک اسٹریٹجک حصے، زنگ زور راہداری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ ترکیہ کی جانب 224 کلومیٹر طویل کارس-ایغدیر-ارالک-دیلُوجو لائن کا ٹینڈر فائنل ہو چکا ہے اور کام کا آغاز کر دیا گیا ہے چونکہ آذربائیجان کی جانب کام آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے، اس لیے وزارت آرمینیا کے علاقے سے گزرنے والے زنگ زور  راستے کے عمل کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ترک دنیا اور وسطی ایشیا کے ساتھ ایک مختصر ترین رابطہ یقینی بنایا جا سکے۔

استنبول میں ریل ٹرانزٹ کا ذکر کرتے ہوئےوزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یاووز سلطان سلیم  پل پر ریلوے شامل کرنے کا منصوبہ مال بردار صلاحیت میں اضافے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

وزیر نے اعلان کیا کہ اس ریل منصوبے کے لیے  عالمی  بینک کی قیادت میں چھ بین الاقوامی اداروں سے فنڈنگ حاصل کر لی گئی ہے اور ابتدائی معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔

اورال اولو کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹینڈر جاری کر دیا جائے گا اور سال ختم ہونے سے پہلے تعمیر کا آغاز ہو جائے گا جس میں یورپ اور ایشیا کے درمیان مال بردار اور مسافر ٹرینوں کی گنجائش کے مسائل کو حل کرنے کے لیے 6.75 ارب ڈالر کا قرض استعمال کیا جائے گا۔

 

دریافت کیجیے