دنیا
3 منٹ پڑھنے
بھارت اور متحدہ عرب امارات نے 3 بلین ڈالر کا ایل این جی معاہدہ کر لیا
معاہدے کے ساتھ بھارت، متحدہ عرب امارات کا، سب سے بڑا ایل این جی گاہک بن گیا ہے۔
بھارت اور متحدہ عرب امارات نے 3 بلین ڈالر کا ایل این جی معاہدہ کر لیا
19 جنوری 2026 کو نئی دہلی ایئرپورٹ پر اپنی آمد کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ہمراہ چلتے ہوئے۔ / Reuters

بھارت نے متحدہ عرب امارات سے مائع قدرتی گیس'ایل این جی' کی خرید پر مبنی 3 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔

اطلاع کے مطابق بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مائع قدرتی گیس کی خرید  کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے ساتھ بھارت، متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا  ایل این جی گاہک بن گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے تجارتی و دفاعی روابط کی مضبوطی کے لیے بھی بات چیت کی ہے۔

 معاہدے پر بروز پیر متحدہ عرب امارات  کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے دو گھنٹوں پر محیط مختصر دورہ بھارت کے دوران دستخط  کئے گئے ہیں۔ اپنی مصروفیات کے دوران النہیان نے  بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ دونوں  سربراہان نے چھ سال میں باہمی تجارتی حجم  کو 200 ارب ڈالر  زرِ مبادلہ کے ساتھ  دوگنا کرنے  اور ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت  داری بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ابو ظہبی کی سرکاری گیس کمپنی ADNOC نے کہا ہے کہ وہ بھارت کی  ہندستان پیٹرولیم کارپوریشن کو دس سال کے لیے سالانہ 0.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرے گی۔

ADNOC گیس نے کہا  ہےکہ اس معاہدے کے ساتھ اس کے بھارت کے ساتھ معاہدوں کی مجموعی مالیت 20 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔بھارت اب متحدہ عرب امارات  کا سب سے بڑا گاہک ہے اور ADNOC گیس کی ایل این جی حکمتِ عملی کا بہت اہم حصہ ہے۔

اسٹریٹجک دفاعی شراکت

متحدہ عرب امارات،  بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ موجودہ دورہ بھارت میں شیخ محمد کے   سرکاری وفد میں  وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ بھی شامل تھے۔

بھارت کے مشیر برائے امورِ خارجہ وکرم میسری نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ   دونوں فریقوں نے، اسٹریٹجک دفاعی شراکت کے قیام  کی کوششوں  پر مبنی میمورینڈم  پر بھی  دستخط کیے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت کے روایتی حریف پڑوسی ملک  پاکستان نے گذشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور گذشتہ ہفتے ایک پاکستانی وزیر نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین سہ فریقی دفاعی معاہدے کے مسودے  کی تیاری کا بھی اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ سالوں تک قریبی اتحادی رہنے کے بعد علاقائی  پالیسیوں پر اختلافات کی وجہ سے  سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایک دوسرے سے دُور ہو گئے ہیں۔ ان کا اختلاف یمن میں کھل کر سامنے آیا ہے  اور تیل کی پیداوار کے معاملے میں بھی ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔

تاہم میسری نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات  کے ساتھ میمورینڈم پر دستخط کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت علاقائی  تنازعات میں ملوث ہو جائے گا۔  دفاع و تحفظ  کے معاملے میں علاقے  کے کسی بھی  ملک کے ساتھ ہمارا تعاون   علاقائی تنازعات میں ہماری شمولیت کے معنی نہیں رکھتا"۔

دریافت کیجیے
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ترک خواتین اور مردوں کی ٹیمیں VNL فائنلز میں پہنچ گئیں
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران