امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ چینی حکام کے ساتھ تجارت اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ہونے والی بات چیت "نہایت کامیاب" رہی ہے۔
بیسنٹ نے اتوار کے روز جاری کردہ بیان میں چینی حکام کے ساتھ موئثر بات چیت کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ دونوں فریقوں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات کے بارے میں آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔
بیسنٹ نے نائب وزیرِ اعظم ہہ لیفینگ کے ساتھ دن بھر جاری رہنے والی ملاقات کے بعد صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ "ہم نے ابھی چینیوں کے ساتھ ایک بہت کامیاب ملاقات کی ہے۔"
مذاکرات میں اعلیٰ سطحی امریکی تجارتی عہدیدار جیمیسن گریئر بھی شریک تھے۔ تقریباً آٹھ گھنٹے جاری رہنے والے ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کی سربراہی ملاقات سے قبل تجارت، مصنوعی ذہانت اور دیگر معاملات پر ممکنہ معاہدوں کی بنیاد رکھنا تھا۔
جمعرات کو واشنگٹن میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کی ملاقات بھی متوقع ہے۔
بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے خطرات جیسے واقعات کے لیے ایک خبر رسانی نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم جس چیز پر بات کر رہے تھے وہ ایک نظام قائم کرنا تھا۔ اسے امریکہ۔چین مصنوعی ذہانت مکالمہ کہا جائے گا۔ہم نے دوبارہ ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔"
دونوں فریق تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں کشیدگی کم کرنے کا مقصد رکھتے ہیں۔
امریکی عہدیدار اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ، امریکی پیداوار کنندگان کے لئے بنیادی اہمیت کے حامل، نایاب ارضیاتی دھاتوں سے بنے مقناطیس اور اہم معدنیات کی بلاتعطل فراہمی جاری رہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ مذاکرات میں چین نے امریکہ سے زرعی مصنوعات خریدنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔



















