انٹرفیکس کی رپورٹ کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آرکٹک جزیرے کو جلد اپنے ماتحت نہیں لیتے تو گرین لینڈ کے لوگ روس میں شمولیت کے لیے رائے دہی کر سکتے ہیں ۔
انٹرفیکس نے سابق روسی صدر میدویدیف کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ "ٹرمپ کو جلدی کرنی چاہیے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چند روز میں ایک اچانک ریفرنڈم ہو سکتا ہے، جس میں 55,000 نفوس پر مشتمل گرین لینڈ کے لوگ روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں۔"
"اور پھر بس۔ (امریکہ) کے جھنڈے پر مزید چھوٹے ستارے نہیں ہوں گے۔"
ٹرمپ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی دوبارہ کوشش میں ہیں۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے اور ٹرمپ کا استدلال ہے کہ روس کو روکنے کے لیے واشنگٹن کو اسے اپنے قبضے میں لینا چاہیے ۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ اس کی جغرافیائی پوزیشن اور وسائل قومی سلامتی کے لیے اہم ہیں، جس پر ڈنمارک اور گرین لینڈ نے سخت اعتراض کیا ہے۔
اگرچہ روس کا گرین لینڈ پر کوئی دعویٰ نہیں ہے، مگر اس نے طویل عرصے سے جزیرے کے آرکٹک سکیورٹی میں اسٹریٹجک کردار پر نظر رکھی ہوئی ہے، جس کی وجہ اس کی شمالی اٹلانٹک ڈھانچے کے مدمقابل پوزیشن اور وہاں موجود ایک بڑاامریکی فوجی و خلائی نگرانی مرکز ہے۔
اگرچہ کریملن نے ٹرمپ کی اس کوشش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم آرکٹک کو روس کے قومی اور اسٹریٹجک مفادات کا علاقہ قرار دیتے ہوئے گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کے بارے میں 'کافی ڈرامائی' بحث کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔
روس-یوکرین جنگ نے آرکٹک تعاون کے بیشتر پہلوؤں کو درہم برہم کر دیا ہے۔ جب موسمیاتی تبدیلی نئے راستے اور وسائل کے امکانات کھول رہی ہے تو یہ خطہ زیادہ متنازع بنتا جا رہا ہے۔










