ماسکو اور کیف ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزام لگا رہے ہیں۔ہفتے کے روز جنگ بندی کے آغاز سے محض چند گھنٹوں بعد ہی ایک ہزار سے زائد ڈرون اور توپ خانہ حملوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
روس وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی رات تک یوکرین نے جنگ بندی کی کُل 1,971 خلاف ورزیاں کیں اور یوکرینی فوجوں نے رات کے وقت دنیپروپیٹروسک، سومی اور دونیتسک میں روسی ٹھکانوں پر متعدد حملے کئے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین جنرل اسٹاف نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے آغاز سے اتوار کی رات 10:00 بجے تک 7,696 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں 1,355 توپ خانہ حملے، 115 جارحانہ آپریشن اور 6,226 خودکش ڈرون حملے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ فروری میں پانچویں سال میں داخل ہونے والی اس جنگ کی وجہ سے ان دعووں کی آزادانہ تصدیق کرنا مشکل ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کے روز جنگ بندی کا اعلان کیا اور فوجی کمانڈ کو اس کے نفاذ کے لئے تیاری کی ہدایات دی تھیں۔
صدر پوتن نے کہا تھا کہ یوکرین کی جانب سے کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں ماسکو جوابی کارروائی کرے گا۔ جنگ بندی کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ کیف مذکورہ اقدام میں شامل ہوگا اورکسی بھی برعکس صورتحال پر 'اسی طرح' کا ردعمل دے گا۔
تاہم ان یقین دہانیوں کے باوجود دونوں فریقین نے جنگ بندی شروع ہونے سے چند گھنٹے بعد ہی ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگانا شروع کر دیئے تھے۔











