سیاست
3 منٹ پڑھنے
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
اس سے قبل دونوں فریقین  نے اس ہفتے ایک 14 نکاتی یادداشت پر دستخط کیے جن کا مقصد لڑائی روکنا اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تنازعات حل کرنے کے لیے 60 روزہ دریچے کو کھولنا تھا،
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ایکسیوس کے مطابق، وٹکوف صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ شامل ہونے کے لیے سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں، جو پہلے ہی وہاں موجود ہیں [فائل] / Reuters

ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دونوں بات چیت کے لیے سوئٹزرلینڈ جا رہےہیں، کیونکہ لبنان میں جنگ بندی سے عارضی ایران سے متعلق جنگی معاہدے کو ایک پائیدار علاقائی معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششوں کو دوبارہ فروغ ملا۔

اسرائیل اور حزب اللہ نے جمعے کو لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کیا، جب کشیدگی میں اضافہ اس امریکی-ایرانی بات چیت پر سوالیہ نشان بن گیا تھا جو آبنائے  ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تیل کی فراہمی کو مستحکم کرنے کے لیے اہم تھی۔

اس سے قبل دونوں فریقین  نے اس ہفتے ایک 14 نکاتی یادداشت پر دستخط کیے جن کا مقصد لڑائی روکنا اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تنازعات حل کرنے کے لیے 60 روزہ دریچے کو کھولنا تھا، نیز ایک زیادہ پائیدار معاہدہ بنانے کے لیے درکار دیگر مشکل مسائل پر بات چیت کرنا تھا۔

البتہ، لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے سفر کو منسوخ کر دیا تھا۔

Axios کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد وٹکوف سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں تاکہ وہاں پہلے سے موجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملیں۔ عراقچی ہفتے کو وہاں سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ دونوں اطراف مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

وٹکوف کے سفر کے بارے میں سوالات پر وائٹ ہاؤس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

لبنان میں حملہ

ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ لبنان میں فائر کے تبادلے کے بعد جنگ بندی تقریباً شام 4 بجے نافذ ہو گئی، اور کہا کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی مدد سے یہ معاہدہ طے کیا۔

حزب اللہ کے دو ذرائع اور ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے  اس جنگ بندی  کی رائٹرز کو تصدیق کی۔

اسرائیلی اہلکار نے کہا 'اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتا تو ہمارے لیے جنگ کا وقت نہیں ہے'، اور مزید کہا کہ اسرائیل اپنی فورسز جنوبی لبنان میں برقرار رکھے گا، جہاں اس نے اپنی شمالی سرحد کے ساتھ ایک علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

دو لبنانی سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ جنگ بندی کے پہلے گھنٹے میں اسرائیل نے درجن بھر فضائی حملے کیے، لیکن شام 5 بجے کے بعد کوئی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

لبنانی وزارتِ صحت نے کہا کہ نصف شب کے بعد اسرائیلی حملوں میں 47 افراد ہلاک اور 97 زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ لبنان میں ایک واقعے میں چار فوجی ہلاک ہو گئے، لیکن مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

لبنان میں اسرائیلی کارروائی مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کیونکہ وہاں لڑائی کا خاتمہ وسیع امریکی-ایرانی معاہدے کے لیے ایک شرط ہے۔

عراقچی نے جمعہ کو اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ معاہدے کے تحت اپنی وابستگیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار ریاستہائے متحدہ ہوگا، جس میں لبنان میں جنگ  کا خاتمہ بھی شامل ہے۔