آسٹریلیا، انتہائی متعدی H5 برڈ فلو وائرس کے خلاف ویکسین مہم شروع کر رہا ہے۔
آسٹریلوی حکام نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ"ہم ، 'ایچ 5' وائرس سے خطرہ محسوس کرنے والے پروں والے جانوروں کی مخصوص اقسام کے لیے ویکسین مہم شروع کر رہے ہیں۔
وزیرِ ماحولیات مرے واٹ نے کہا ہے کہ اس پروگرام میں پالتو اور جنگلی دونوں طرح کے پرندے شامل ہوں گے، تاہم جنگلی پرندوں کی ویکسینیشن میں لاجسٹک مشکلات درپیش ہیں۔
واٹ نے کہا ہے کہ ’’جنگل میں موجود پرندوں کو ویکسین لگانا مشکل ہے۔ پرندوں کو ویکسین دینے کے لیے ویکسین کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔ لیکن ایسے میں کہ جب جنگلی پرندوں کو ایک بار پکڑنا ہی دشوار ہے ویکسین کی دوسری خوراک کی فراہمی تقریباً ً ناممکن دِکھائی دے رہی ہے۔‘‘
واٹ نے کہا ہے کہ جہاں ممکن ہوا جنگلی پرندوں کو بھی ویکسین دی جائے گی لیکن ہماری ترجیح پالتو پرندے ہوں گے۔
واضح رہے کہ'ایچ 5' دنیا بھر میں پولٹری اور جنگلی پرندوں میں شدید بیماریوں اور ہلاکتوں کا سبب بن رہا ہے ۔ تاہم آسٹریلیا دنیا کا واحد براعظم ہے جو کئی برسوں تک وائرس کی اس قسم سے محفوظ رہا ہے۔
وسیع پیمانے پر پرندوں کی ہلاکتوں کا خدشہ
آسٹریلیا میں جون کے مہینے میں ایک نقل مکان سمندری پرندے میں H5 وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے پہلی بار ملک میں وسیع پیمانے پر جنگلی حیات میں اموات کی تصدیق کی ہے۔
وزیرِ زراعت جولی کولنز نے خبردار کیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ مزید بڑے پیمانے پر پرندوں کی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔
کولنز نے کہا، ’’یہ صورتحال پورے ملک میں دیکھنے میں آئے گی۔‘‘
پرندوں کی جنگلی انواع میں شامل آبی پرندے، ساحلی پرندے، سمندری پرندے اور شکاری پرندے H5 وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی اقسام ہیں۔
حکام کے مطابق پیر تک آسٹریلیا میں H5 برڈ فلو کے 231 تصدیق شدہ کیس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ پولٹری مصنوعات یا آسٹریلیا کی زرعی پیداوار میں وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
آسٹریلیا میں پائی جانے والی جنگلی پرندوں کی تقریباً نصف اور ممالیہ جانوروں کی 83 فیصد اقسام دنیا کے کسی اور حصے میں نہیں پائی جاتیں۔ اس وجہ سے وائرس کا پھیلاؤ جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے خاص طور پر تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
آسٹریلوی سائنس دانوں نے جون میں جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ H5 برڈ فلو نے دور دراز واقع جزائر ہیرڈ اور میکڈونلڈ میں پرندوں کی ایک افزائشی کالونی کو متاثر کیا جس کے نتیجے میں ہاتھی سِیل کے 13,000 سے زائد بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

















